ایک طلاق رجعی کے بعد عدت کے دوران دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت اور رجوع کا حکم
ساتھ نہیں جاؤں گی اور میں تم سے چھٹی یعنی طلاق چاہتی ہوں میں نے بہت کوشش کی مگر اس کے ساتھ گھر والے یہی کہتے رہے اور میں سنتے سنتے جب پریشان ہو گیا تو غصے سے بیتاب ہوکر اور اپنی فریاد کسی کو نہ سنتے دیکھ کر مجبور ہو گیا اور میں نے اس کو طلاق دے دی اور اپنے گھر چلا آیا۔ میں ایک بار یہ کہہ کر چلا آیا کہ میں نے تجھے طلاق دی۔ حضرت ! کیا طلاق ہوگئی اور دوسرے دن میں نے سنا کہ میری بیوی کا نکاح کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ہو گیا۔ میں یہ سن کر گھبرا گیا اور پتہ لگانے پر یہ بات صحیح نکلی ، جب میں نے لوگوں سے کہا کہ یہ بات غلط ہے تو لوگ مجھ پر آواز اٹھانے لگے اور یہ کہنے لگے کہ تم تو طلاق دے چکے، تمہارا کوئی حق نہیں رہاوہ جو چاہے کرے۔ تو حضرت! اگر یہ طلاق ہوگئی تو ہوگئی۔ دوسرے دن یہ نکاح جو شرعا غلط ہے اور یہ حرام ہے کیا یہ ہو گیا ؟ حضرات علمائے دین کیا لکھتے ہیں؟ اس کے صحیح جواب کا انتظار ہے۔ المستفتی: احمد علی محلہ سیمل کھیڑو ، شهامت منج، بریلی
الجواب: صورت مسئولہ میں فی الواقع اگر آپ نے ایک مرتبہ طلاق دی“ کہا تو آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے۔ رجعت کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دو متقی پر ہیز گارلوگوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ عدت کے اندر نکاح تو نکاح ،صراحۂ پیغام نکاح بلکہ ارادہ نکاح بھی حرام قطعی ہے۔ قال تعالى: {وَلَا تَعْزِ مُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ الآية } () شوہر کو اگر علم تھا کہ عورت غیر کی معتدہ ہے تو نکاح باطل محض اور قربت زنا ہے اور اگر علم نہ تھا تو نکاح فاسد ہوا۔ بعد علم متارکہ وجدائی فرض ہے اور تاخیر گناہ اور تو بہ ہر واقف حال شریک مجلس پر لازم ہے۔ یونہی وہ بھی تو بہ کرے جس نے کہا کہ : ”تمہیں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے“۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ