بہو کا اپنے خسر پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگانا اور علیحدہ کمرے کے مطالبے کا شرعی حکم
انہوں نے لڑکے کے اوپر اپنی لڑکی سے یہ الزام لگوایا کہ میرے خسر نے میری عزت لوٹی ہے اور پوری برادری میں لڑکے کے والد کو بدنام کیا افواہ اڑا کر ، اس الزام کے بارے میں ایک بہت بڑی انجمن ادریسیہ نے پنچایت کی جس میں برادری کے باہر کے بھی بہت سے برادر موجود تھے۔ پہنچ باہر کے ۵ / برادروں کو بنایا گیا۔ انہوں نے لڑکے اور لڑکی سے الگ الگ اکیلے میں ان کے تحریری بیان لئے، جس کی نقل بھی موجود ہے۔ تحریری بیانوں کے پہنچوں نے یہ ثابت کر دیا کہ لڑکے کے والد پر جو الزام لگایا گیا ہے، بے بنیاد ہے اور انہیں باعزت اس الزام سے بری کیا جاتا ہے لیکن الزام لگانے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی ، صرف اللہ سے تو بہ کریں اتنی بات کہ کر چھوڑ دیا۔ اب لڑکی آنے میں شرط رکھتی ہے کہ مجھے اس گھر سے الگ کمرہ لے کر دے دیا جائے تو میں شوہر کے ساتھ رہنے کو تیار ہوں ورنہ میرا سامان واپس دے دیا جائے ۔ لڑکے سے اس شرط کا جواب مانگا تو وہ کہتا ہے کہ میں لانے کو تیار ہوں لیکن سب سے پہلے وہ شخص میرے والد سے بھی معافی مانگے، دوسرے یہ کہ لڑکی کی اس شرط پر میں بالکل تیار نہیں ہوں۔ آپ کی نظر میں جوحق فیصلہ ہو، اپنے فتوئی کے ساتھ ہمیں نواز نے کی تکلیف گوارہ فرما ئیں۔ عین نوازش ہوگی ۔ جواب جلد سے جلد تحریر فرما ئیں۔ سوال کا کارڈ بھی روانہ فرمائیں!
الجواب: المستلفي : رفیق احمد اشرفی و ظریف احمد اشرفی ٹیلرس، منڈی دھنوری ،ضلع مراد آباد (یوپی) اگر یہ واقعہ ہے کہ شوہر کے والد پر عورت نے جھوٹا الزام لگایا تو عورت سخت گناہ گار مستحقہ نار ہوئی اس پر تو بہ اور اپنے خسر سے عذر خواہی لازم ہے۔ اور اگر شوہر کے گمان میں یہ ہے کہ یہ سچ کہتی ہے تو عورت کو اپنے اوپر حرام جانے اور متارکہ کرے، مثلاً شوہر کہے کہ میں نے اسے چھوڑ دیا اور اگر وہ بھی اسے جھوٹ جانتا ہے تو ایک ساتھ رہ سکتے ہیں اور عورت کی طرف سے لگائی گئی شرط شوہر پر لازم نہیں۔ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ رمضان المبارک ۱۳۹۹ھ صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی