بیوی کا سسرال جانے سے انکار، غیر کے گھر رات گزارنے اور نفقہ و حضانت کے احکام
حضرت قاضی مفتی عبد الرحیم بستوی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ: زیدا اپنی بیوی ہندہ کو لینے سسرال گیا۔ زید کی بیوی نے آنے سے صاف انکار کیا۔ اور ساس نے بھی کہا کہ میری بیٹی نہیں جائے گی اور نہ دیہات میں رہے گی۔ دونوں نے کہا (بیوی اور ساس ) آپ یہیں رہے ، زید نے انکار کیا اور کہا میرے والدین باحیات ہیں، والدین کی حیات میں سسرال رہنا بہتر نہیں ہے۔ زید نے اپنی بیوی سے کہا اگر تم کو شوہر سے کوئی شکایت یا تکلیف ہو یا سسرال والوں سے کوئی شکایت یا تکلیف ہو تو کہو۔ ہندہ نے سر عام کہا کہ شوہر اور سسرال والوں سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ گفتگو کا سلسلہ ۹؍ بجے رات تک جاری رہا۔ جب سونے کا وقت آیا ہندہ شوہر کے ساتھ رات نہیں گزاری۔ اور زید انتظار کرتا رہا۔ اسی طرح رات کے گیارہ بج گئے اور دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ہندہ دوسرے کے گھر رات گزارنے گئی ،صبح آئے گی۔ ہندہ کی یہ حرکت دیکھ کر زید کو غصہ آیا اور ساس سے یہ کہتے ہوئے چل دیا کہ: اب سسرال نہیں آؤں گا۔ رات ہی رات زید واپس آگیا۔ ہندہ کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے اور اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟ وضاحت سے بیان کریں۔ زید بغیر طلاق دے ہوئے دوسری شادی کرسکتا ہے یا نہیں؟ کیا حکم ہے؟ آگاہ کریں ۔ ہندہ میکہ میں رہ کر زید سے نان ونفقہ لینے کا حق رکھتی ہے یا نہیں؟ زید نان ونفقہ دینے سے انکار کرتا ہے۔ اس مسئلہ کو وضاحت سے بیان کریں۔ زید کی کمائی میں ہندہ کا حق ہے؟ اور زید کے والدین کا حق نہیں ہے؟ اس مسئلہ کو بھی وضاحت سے بیان کریں۔ زید نے ہندہ کو طلاق دے دی تو ہندہ کو کیا خرچ دینا پڑے گا۔ زید کی ایک سال کی بچی ہے۔ بچی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بچی ماں کے پاس رہے گی یا باپ کے پاس؟ اس مسئلہ کو بھی وضاحت سے بیان کریں گے ۔ فقط والسلام خادم احقر محمد فاروق کیراف راجندر بھنڈار مقام و پوسٹ گھر گوٹھا چوک ضلع گریڈ یہ (بہار)
الجواب: بر تقدیر صدق سوال ہندہ سخت گنہ گار ہے۔ اس پر اجانب کے یہاں جانے اور وہاں رات گزارنے سے تو بہ لازم اور زید کو دوسری شادی کرنا حلال ہے۔ بشرطیکہ کوئی مانع شرعی مثلا پہلی بیوی پر جور وزیادتی و نا انصافی نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم ہندہ اگر بے عذر شرعی میکے میں رہتی ہے تو ناشزہ ہے اور نفقہ کی مستحق نہیں اور زید پر اپنے ماں باپ کا نان نفقہ فرض ہے۔ اور بیوی کا بھی جبکہ اسکے ساتھ رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم عدت کا اپنے مقدور بھر اور بچی کی پرورش کا خرچ اور اس کی اجرت بھی اس کے ذمہ لازم ہے۔ اور بچی 9 سال کی عمر تک ماں کے پاس رہے گی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۶ھ