شرافت و رذالت کا مدار اور کفو سے متعلق مسائل
کون کس کا کفو؟ کون کون سی قو میں شریف ہیں اور ان کا وزن شرافت کتنا کتنا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام بالخصوص حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اختر رضا خاں صاحب قبلہ نائب مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم ، مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ: (1) شرافت ورذالت کا مدار قوم پر ہے یا تقویٰ پر ؟
(۲) کون کون سی قومیں شریف ہیں اور ان کا وزن شرافت کتنا کتنا ہے؟ (۳) کون کون سی قومیں رذیل ہیں اور ان کا وزن رذالت کتنا کتنا ہے؟ (۴) کفو سے مراد قوم ہے یا تقویٰ؟ ایک سید یا پٹھان یا دوسری کسی قوم کا شخص متقی پرہیز گار ہے، دوسرا ای قوم کا فاسق فاجر شرابی ہے، کیا وہ ایک دوسرے کا کفو ہوسکتاہے؟ بینوا توجروا۔ فقط، والسلام مع الاکرام! سائل: حاجی حکیم شفقت حسین قادری چشتی پیرزاده و خادم آستانہ عالیہ قادریہ چشتیہ محمد پور ہر ہر یو مشکلی ضلع بریلی شریف (اتر پردیش) الجواب: (1) آخرت میں شرافت کا مدار تقویٰ پر ہے۔ قال عز وجل: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ اور دنیا میں شرع مطہر نے بہت جگہ خصوصاً در بارہ نکاح شرافت نسب کا اعتبار فرمایا ہے۔ رسالہ مبارکه اراءة الادب لفاضل النسب“ مصنفہ سید نا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بنو ہاشم پھر قریش پھر درجہ بدرجہ تمام عرب اور عجم میں جولوگ اپنا سلسلہ نسب بنو ہاشم یا قریش یا کسی عرب قبیلہ سے رکھتے ہیں وہ اپنے ماسوا سے افضل ہیں ۔ لہذا سادات کہ ابنائے فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں، وہ سب سے افضل، پھر صحیح النسب شیخ مثلاً صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا علوی جعفری یا عباسی ، یہ سب اوروں سے افضل ہیں اور یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے کفو ہیں، بلکہ قریشی ہونے کے سبب سادات کرام کے بھی کفو ہیں اور غیر قریش کسی قریشی کسی ہاشمی کا کونہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ بتانا بس سے باہر ہے۔ اور بجد و جہد بتایا بھی جائے تو اس پر کوئی فائدہ مترتب نہیں۔ نہ سائل کوایسا سوال کرنا چاہئے ۔حدیث میں ہے: من حسن اسلام المرءترکه مالا يعنيه (۱) سورة الحجرات : ۱۳ (۲) جامع الترمذی، ابواب الزهد، ج ۲، ص ۵۵ ، مجلس برکات آدمی کے حسن اسلام سے یہ ہے کہ وہ لا یعنی بات سے کام نہ رکھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) او پرگز را که کفاء ت میں نسب کا اعتبار ہے یونہی یہ بھی معتبر ہے کہ آدمی پیشہ اور چال چلن میں ایسا کمتر نہ ہو کہ اولیاء زن کے لئے باعث عار ہو۔ لہذا جو چال چلن میں ایسا کمتر ہو کہ اولیاء زن کے لئے باعث عار ہو، وہ عورت کا کفو نہ ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۹ شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی