نکاح میں دھوکہ دہی، طلاق کے بعد بچے کی پرورش اور امام کی اہلیت کا مسئلہ
اس کے کہ اس سے انکار کرتے انہوں نے اسی لڑکی پر قناعت کر لی۔ بقول امام صاحب کچھ کہنے سے بہتر ہے کہ میں اُسی لڑکی کو اپنالوں اور انہوں نے اسی لڑکی کو اپنا لیا اور اس کے ساتھ تقریباً ۳-۴ ماہ بحسن و خوبی گزارے مگر بعد میں لڑکی کے رشتہ داروں کے برتاؤ اچھانہ ہونے کی وجہ سے وہ چلے آئے اور بالکل ڈیڑھ سال تک خاموش رہے۔ کمیٹی نے امام صاحب کو ایک دن کا وقفہ دیا کہ وہ فیصلہ کر کے جواب دیں کہ اب وہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ دوسرے دن پھر کمیٹی امام صاحب سے جواب طلب کرتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ میں اس کو طلاق دے چکا ہوں مگر گواہ میں ایسے شخص کا نام پیش کیا جو مکان گئے ہوئے ہیں۔ بہر کیف وعدے کے مطابق لڑکی کے رشتہ دار اور چند با اثر لوگوں نے تشریف لا کر کمیٹی سے رجوع کیا تو اب دونوں پارٹی لڑکی کے رشتہ دار اور امام صاحب کو روبرو بٹھا کر چند مقتدیان مسجد کی موجودگی میں بات چیت شروع کی گئی۔ لڑکی کے رشتہ دار کا کہنا ہے کہ انہوں نے طلاق نہیں دی ہے اور نہ اس کی کسی کو اطلاع ہے۔ آخر میں امام صاحب نے کہا کہ اگر میں نے طلاق نہیں دی ہے تو آپ لوگوں کے سامنے طلاق دے رہا ہوں اس طرح کہہ کر انہوں نے تین بار طلاق دیا کو دہرایا جہاں لڑکی کے رشتہ دار بھی موجود تھے چنانچہ امام نے مہر دین اور تین ماہ تیرہ دن کا خرچ خورا کی دینے کا وعدہ فرمایا۔ اب جہاں تک طلاق کا مسئلہ ہے وہ طے ہو چکا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس لڑکے کا ہے جس کی عمر ابھی ۴-۵ / ماہ کی ہے اس کی پرورش کے اخراجات اس کے والد (امام صاحب ) برداشت کریں گے۔ یا پھر کوئی اور ، اور کب تک؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وہ امامت کے لائق ہیں؟ کیا ایسے شخص کو امام رکھا جاسکتا ہے جو شروع سے آخر تک لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالتا رہا؟ ان دنوں مسجد کے مقتدی اور تمام لوگوں میں اضطراب و بے چینی پھیلی ہوئی ہے کہ فیصلہ کمیٹی کو کرنا ہے مگر جب تک قرآن وحدیث سے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل جاتا ہے کمیٹی کے لئے کوئی قدم اُٹھا نامکن نہیں۔ اس لئے آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ شرعی طور پر اس مسئلہ کاحل لکھئے تا کہ مؤثر ثابت ہو اور آپ کے شرعی فیصلہ پر قدم اُٹھایا جائے ! (نوٹ ): اس کا جواب جلد از جلد روانہ کر دیجئے تو عین نوازش ہوگی کیونکہ عید اضحی مسلمانوں کے سر پر ہے۔ فقط والسلام المستفتی: سکریٹری مسجد کمیٹی
الجواب: سوال میں امام مذکور کی بابت جو تحریر ہوا اگر واقعہ یہی ہے تو اس لڑکی سے صحبت وقربت کی وجہ سے مظنون بظن غالب اپنے منہ آپ اقراری زنا کا ر ہے جس کے متعلق اس نے کہا کہ جس لڑکی کو کمرہ میں بھیجا گیا وہ لڑکی نہیں تھی جس کو میں نے نکاح سے قبل پسند کیا تھا اور کچھ کہنے سے بہتر ہے کہ میں اسی لڑکی کو اپنالوں اور سوال میں یہ تحریر نہ ہوا کہ امام نے اس دوسری لڑکی سے نکاح کیا اور اس وقت اس سے علیحدہ رہا اور اس سے خلوت سے پر ہیز کیا تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے بلا نکاح صحبت کر کے زانی ٹھہرا اور اگر وہ لڑکی منکوحہ غیر نہ تھی تو اس سے قربت سے جو بچہ ہوا وہ ولد الزنا ہوا جس کی پرورش اس زانیہ پر ہے اور اگر وہ لڑکی منکوحہ تھی تو وہ بچہ ولد الزنا قرار نہ پائے گا بلکہ اس کے شوہر کا قرار پائے گا اور جب تک لعان شرعی نہ ہو نسب بچہ کا اس سے منتفی نہ ہوگا۔ لہذا اس صورت میں پرورش کا خرچ اس پر ہوگا پہلی لڑکی جس سے نکاح ہوا تھا اسے جیسی اور جتنی طلاقیں دی ہوں، ویسی اور اتنی طلاقیں واقع ہوگئیں اور عدت اس پر لازم نہ ہوئی اور نصف مہر واجب ہوا کہ طلاق قبل خلوت صحیحہ دی ہے ۔ مگر یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ نکاح میں اسی پہلی لڑکی کا نام لیا گیا ہو اور بھیجی یہ دوسری۔ اور اگر اسی دوسری کا نام نکاح میں لیا گیا تو نکاح اس سے ہوا۔ اب امام پر الزام زنا کا نہیں۔ اور طلاق کی عدت اس کی بیوی پر لازم جو تین حیض کامل ہے اور عورت کا نفقہ شوہر پر ہے اور بچہ سات سال تک اسکی ماں کے پاس رہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله