منگنی کے بعد دوسری جگہ نکاح کر لینے کا حکم
دن کبیر ملک کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ تم لوگ دو سال سے اپنے لڑ کے مسمی غلام محمد ملک کے لئے میری بیٹی مسماۃ ہاجرہ کا رشتہ طلب کر رہے تھے لیکن آج تک میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا لیکن آج میں یہ رشتہ قبول کر رہا ہوں۔ بشرطیکہ تم مجھے مبلغ ایک ہزار روپے بحیثیت جہیز دے دو ۔ اس پر صاحب پسر سمی کبیر ملک نے کہا کہ ” تمہارا ایمان کمزور ہے اس لئے ہم سر محفل آج اپنے لڑ کے مسمی غلام محمد ملک کے لئے تمہاری بیٹی ہاجرہ کا ہاتھ مانگ رہے ہیں ۔ (ایجاب) اس پر مسمی جبارنا ایک نے خدا اور رسول کی قسم کھا کر اس ایجاب کو اسی محفل میں قبول کر لیا ۔ چنانچہ جہیز کی مانگی ہوئی رقم سے نصف یعنی مبلغ پانچ سو روپے کی ادائیگی موقع پر ہی کی گئی۔ اس ایجاب وقبول کے موقع پر عبدالرحمن ملک ولد سو ملک ساکنہ سنگھ پورہ عبد اللہ ملک ولد گزر ملک ساکنہ سنگھ پورو نیز عبد الغفار کمہار ساکنہ راصل محفل میں موجود تھے اور اس وقت اول الذکر دو حضرات دار القضاء میں بحیثیت گواہ موجود ہیں۔ اس ایجاب وقبول کے چند ہی روز بعد مسمی جبارنا ایک نے اپنی بیٹی مسماۃ ہاجرہ کا نکاح دوسری جگہ کر لیا۔ صاحب پسر کو پتہ چلا تو کچھ لوگوں کو جمع کر لیا۔ مسمی جبار نایک بھی موجود تھا۔ لوگوں کے استفسار پر اس نے اقرار کیا کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ مسمی کبیر ملک کے بیٹے کے لئے منظور کر چکا تھا لیکن چونکہ وہ میرے کسی کام نہ آئے اس لئے میں نے اپنی بیٹی کا نکاح دوسری جگہ کر لیا۔ حیرت یہ ہے کہ جس مولوی صاحب نے دوسرا نکاح پڑھایا وہ پہلے ایجاب و قبول سے آگاہ تھا۔ اب سائلان اس بارے میں حکم شریعت چاہتے ہیں۔ انتہی البیان۔ المستفتی : قاضی غلام محمد قاضی منزل ، قاضی محله، اسلام آباد (کشمیر)
الجواب: صورت مسئولہ میں خط کشیدہ عبارتوں سے ظاہر ہے کہ وہ مجلس نکاح کی نہ تھی بلکہ منگنی کی مجلس تھی، جس پر یہ جملہ کہ ہم سر محفل آج اپنے بیٹے غلام محمد کے لئے تمہاری بیٹی ہاجرہ کا ہاتھ مانگ رہے ہیں، شاہد ہے۔ اور نایک کا یہ کہنا کہ اپنی بیٹی کا رشتہ مسمی کبیر ملک کے ساتھ منظور کر لیا تھا، اسی پیغام نکاح کو منظور کرنا ہے۔ لہذا اس کی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ صحیح ہے اور نکاح خواں پر الزام نہیں ۔ ہاں بے وجہ شرعی وعدہ خلافی ضرور گناہ ہے۔ اگر واقعہ وہ شخص بے وجہ صحیح و مقبول وعدہ خلافی کا مرتکب ہوا تو اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی