داماد کو دھوکہ دے کر اپنی بیٹی کا نکاح باپ نے کسی اور سے کر دیا تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کا اپنے سسرال والوں سے نا اتفاقی کی بنا پر بیوی کو میکے نہیں بھیجنا تھا لیکن زید کی بیوی ہندہ کا ماموں زید سے یہ کہہ کر اپنی بھانجی ہندہ کو اپنے گھر لے گیا کہ میں اپنی ذمہ داری سے ہندہ کو تمہارے گھر پہونچا دوں گا۔ یہ وعدہ انہوں نے چند آدمیوں کے سامنے کیا تھا لیکن وہ وعدہ خلافی کرتے ہوئے ہندہ کو اس کے باپ کے گھر پہونچا دیا۔ معلوم ہونے پر جب ان سے کہا گیا کہ تم ہندہ کو بھیج دو تو انہوں نے جواب دیا ہندہ اپنے میکے چلی گئی ہے، اس میں میں کچھ نہیں جانتا۔ جب ہندہ کے باپ سے کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جو رخصتی کر کے لایا ہے، اُن سے کہو۔ المختصر یہ ہے کہ اس جھگڑے میں چھ برس کا عرصہ گزرچکا اب پتہ چلا کہ ہندہ کے باپ نے ہندہ کی دوسری جگہ شادی کر دی ہے جہاں ہندہ کی ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی ہے۔ لہذا اس صورت میں شرع کا کیا حکم ہے؟ میں شرع کا المستفتی: مقبول احمد تحصیل بیری ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: ہندہ منکوحہ زید کا نکاح دوسرے سے حرام قطعی ہوا اور ایسا نام کا نکاح کرانے والا ہندہ کا باپ اور سب واقف حال زنا کے دلال مستحق اشد و بال ہوئے اور جس سے یہ نکاح ہوا، اگر وہ جانتا تھا کہ ہندہ زید کی منکوحہ ہے تو سرے سے باطل ہوا اور قربت خالص زنا ہوئی ورنہ فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ وجدائی فرض ہے۔ ہندہ کے باپ اور اس کے شرکاء حال سب پر تو بہ لازم ہے۔ ہندہ کے ماموں پر بھی دھوکہ دینے سے تو بہ لازم ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی