والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنا کیسا؟
والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام ومفتیان شرع عظام مسائل ذیل میں (1) زید خود مختار آزاد اور بالغ ہے، زید نے بکر کی لڑکی جس کے دیگر وارثین مع لڑکی زید سے نکاح مسنون کے لئے قطعی راضی تھے، اس پر زید کے ساتھ بکر نے اپنی لڑکی کا نکاح جمع جميع متعلقین کی خوشی اور موجودگی میں کر دیا۔ اس پر زید کے وارثین نے اس سلسلہ میں کافی چہ میگوئیاں کیں لیکن زید نے اپنی مرضی سے نکاح کر لیا۔ لہذا ایسی صورت میں زید، زید کے وارثین، بکر اور زید کی زوجہ یا اب اس میں برادری یا کمیٹی یا کسی زید بکر کو بے جا مداخلت کرنے پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ (۲) زید بکر کے درمیان اس نکاح مسنون کے متعلق برادری نے ایک میٹنگ بٹھالی جس میں یہ طے پایا گیا کہ زید اور زید کی زوجہ اور زید کی زوجہ کے وارثین کو برادری سے خارج کر کے ان کا ساری برادری میں حقہ پانی لین دین سب بند کر دیا جائے۔ لہذا اس سلسلہ میں برادری کے کافی حضرات نے میٹنگ ہی میں پانچ حضرات کو اپنا سر پنچ مقرر کرتے ہوئے قرآن کی قسم کھا کر بآواز بلند یہ اعلان کیا کہ پانچوں حضرات جن کو برادری نے اس سلسلہ میں سر پنچ مقرر کیا ہے، زید اور زید کی زوجہ وزید کی زوجہ کے متعلقین کے لئے جو فیصلہ کریں گے، ہم تمام برادری کے لوگ اس کو تسلیم کریں گے۔ اس پر ان سر پنچوں نے اپنا فیصلہ برادری کے سامنے پیش کیا اس پر برادری نے قرآن پاک کی قسم کھانے کے باوجود اپنے ہی مقرر کردہ سر پنچوں کا فیصلہ بھی رد کر دیا۔ ایسی صورت میں ان تمام قرآن پاک کی قسم کھانے اور قرآن پاک کی قسم کھا کر اس کی توہین کرنے اور اس کو جھٹلانے والوں کے لئے شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ امستفتی: انعام اللہ، بانسری والا محلہ بھورے خاں، کچہری روڈ ، پیلی بھیت
(1) صورت مستفسرہ میں نکاح صحیح ۔ البتہ زید نے اگر اپنے والدین کی مرضی کے خلاف کیا تو گنہ گار ہے، انہیں راضی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جن لوگوں نے ان سر پنچوں کا فیصلہ نہ مانا گناہ گار ہیں، جبکہ وہ فیصلہ شرعیہ ہو، تو بہ کریں اور اگر وہ فیصلہ شرعیہ نہ تھا تو ان پر الزام نہیں۔ البتہ بے وجہ شرعی حقہ پانی بند کرنا انہیں ناجائز ہے۔ اس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم