باپ دادا کا کیا ہوا نکاح نافذ ولازم!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہندہ کی شادی زید سے ہوئی اور وقت نکاح ہندہ کی عمر کم از کم ۵ سال کی تھی اور زید کی عمر کم از کم ۷ سال کی تھی یعنی دونوں نابالغ تھے۔ بہر کیف اب لڑکی بالغہ ہوگئی تو زید کے یہاں جانے سے انکار کرتی ہے۔ اور زید سے کہا جارہا ہے کہ تم طلاق دے دو تو زید کہتا ہے کہ ہم تازندگی طلاق نہیں دیں گے۔ اور عمر کا کہنا ہے کہ نابالغی کی حالت میں نکاح ہوا تھا اس لئے طلاق ضروری نہیں ہے تو کیا عمر کا کہنا صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو حدیث و قرآن کی روشنی میں مدلل جواب سے نوازیں۔ عین نوازش ہوگی المستفتی: عبدالغفور مقام کو نہ بازار مضلع بہرائچ (یوپی)
الجواب: بندہ نابالغہ کا نکاح اگر اس کے باپ یا دادا غیر معروف بسوء اختیار نے خود پڑھایا تھا تو نکاح صحیح ولازم ہو گیا۔ ایسی صورت میں ہندہ کو خیار بلوغ نہیں۔ لہذا جب تک زید سے طلاق ہو کر عدت نہ گزر جائے ، ہندہ کو دوسرے سے نکاح حرام قطعی ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ ہندہ سے زید خلوت صحیحہ کر چکا ہور نہ مجر وطلاق بلا عدت وہ آزاد ہوگی، جس سے نکاح جائز ہو، کر سکے گی اور اگر صورت مندرجہ بالا نہ ہوتو وصورت ہو مفصل لکھ کر پوچھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ رذی قعدہ ۱۴۰۳ھ