غیر ولی کا نابالغہ لڑکی کا نکاح زبردستی اور دھوکہ دہی سے کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: زید کی لڑکی کا دیگر آدمی نے دیگر قوم کے آدمی سے زبردستی نکاح کر دیا تھا لڑ کی کی عمر اس وقت قریب قریب ۹-۰ ارسال کی تھی اور لڑکی کا باپ پر دیں مزدوری کرنے گیا ہوا تھا وہ شخص دھوکہ دے کر یعنی میں تیرے باپ کے پاس لے جا رہا ہوں، لڑکی کو لے گیا اور دیگر قوم سے نکاح کر دیا ۔ لڑکی فوراً چلی آئی اور مجھے سب ماجرا بتایا۔ اب لڑکی میرے پاس ہے۔ جیسا حکم ہو، صادر فرما ئیں! المستفتی: اسرائیل خاں علی نگر ضلع نینی تال (یوپی)
صورت مسئولہ میں وہ نکاح بہ حالت نابالغی دختر کے باپ کی اجازت پر موقوف تھا جبکہ اس نے کفو سے مہر میں نمین فاحش کے بغیر نکاح کیا ہو۔ اگر باپ نے جائز کر دیا ہو تو صیح و نافذ ہو گیا اور رد کر دیا ہو تو رد ہو گیا اور اگر ہنوز باپ نے اس نکاح کو جائز نہ کیا تھا تو اب اس بالغہ لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوا۔ اگر اس نے صراحت یا دلالت جائز کیا ہو تو صیح و لازم ہو گیا۔ اور اب بے طلاق چارہ نہیں اور اگر رد کرد یا تو رو ہو گیا۔ یہ سب حکم جب ہے جبکہ مسلم سے نکاح کیا ہو اور اگر عیاذ باللہ کسی غیر مسلم کوسونپا تھا تو سرے سے نکاح ہی نہ ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی