نابالغہ کے نکاح کے بعد شوہر کے فاسق ہونے پر خیار بلوغ کا حکم
بعد نکاح صغیرہ ، شوہر شرابی ہو گیا بعد بلوغ خیار رہا یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ہندہ کی شادی بلوغیت سے پہلے ہی ہوگئی اور جب بالغہ ہوئی تو کچھ عرصہ تک اپنے شوہر زید کے یہاں رہی اور زندگی بسر کیا اور کچھ دنوں بعد ایسا ہو گیا کہ وہ حقوق زوجیت ادا نہیں کرسکتا ہے اور شرابی جواباز وغیرہ ہو گیا اور ذریعہ معاش بنانا نہیں چاہتا ہے اور ہندہ سے غلط کام کروا کر ذریعہ معاش بنانا چاہتا ہے جبکہ ہندو با شرع ہے اہل سنت و جماعت سے تعلق رکھتی ہے ہندہ کی درخواست ہے کہ شریعت کے مطابق اسے شوہر کے پاس جانا کیسا ہے اور جو کہ اس قابل ہی نہیں ہے اور ہندہ کا کہنا ہے کہ نکاح فسخ کر دیا جائے لیکن زید طلاق نہیں دے رہا ہے۔ اور نان و نفقہ بھی نہیں دیتا ہے۔ اب شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ مفصل و مدلل جواب عنایت کیا جائے ۔ تین کرم ہوگا المستفتی: محمد بر علی شاہ ، مقام چواری ضلع بریلی شریف
الجواب: ہندہ نابالغہ کا عقد شخص مذکور سے اگر اس کے باپ غیر معروف به سوء اختیار نے کیا تو یہ عقد لازم ہو گیا اور بعد بلوغ ہندہ کو خیار ندر با اگر چہ وہ شخص ہندو کا کفو نہ ہو۔ در مختار میں ہے: (1) لزم النكاح ان كان الولى المزوج ابا أو جدا لم يعرف منهما سوء الاختيار - ملتقطاً) الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۷۱ ، دار الكتب العلمية بيروت اور وہ شخص اگر کفو تھا تو بدرجہ اولی نکاح صحیح ولازم ہو گیا۔ ہندہ کے لئے اب چارہ کار یہی ہے کہ ہر ممکن صورت اس سے طلاق لینے کی کرے، مہر معاف کر کے یا کچھ اور دے کے یا فہمائش سے تحریری طلاق لے لے یا حاکم و ذی اثر لوگوں کے جبر و اکراہ سے زبان سے تین مرتبہ طلاق کہلوا لے۔ پھر عدت بیٹھ کر جس سے چاہے نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح والحجب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی