غیر کفو میں نکاح کی شرعی حیثیت، ولی کا حقِ فسخ اور حاملہ کی عدت و نکاح ثانی کے احکام
(۲) اگر یہ مذکورہ نکاح جائز و صحیح ہو گیا تو لڑکی کے ولی اقرب باپ چا وغیرہ یہ نکاح توڑ سکتے ہیں فسخ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور فوراً اپنے ہم قوم و برابر سے نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں؟ طلاق وعدت کی ضرورت ہے یا نہیں؟ (۳) اگر یہ نکاح ولی اقرب توڑ سکتے ہیں فسخ کر سکتے ہیں تو کن الفاظ میں اعلان کریں جس سے نکاح فسخ ہو جائے ؟ لڑکی حاصل گرفتار کرنے کے فورا یا کچھ مدت گزرنے پر بھی نکاح توڑ سکتے ہیں یا نہیں؟ کتنا وقعہ گزرنے کے بعد ولی اقرب کو حق فسخ نکاح باقی رہتا ہے ؟ شرع مطہر سے آگاہی بخشی جاوے! سائل: مقبول احمد شاہ بھکاری پور، پوسٹ خاص بھکاری پور ضلع پیلی بھیت
الجواب: (1) صورت مسئولہ میں یہ نکاح صحیح نہیں۔ در مختار میں ہے: ”ویفتی فی غير الكفو بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى الفساد الزمان (1) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر لڑ کی حاملہ نہیں ہے تو نکاح بعد عدت کر سکتے ہیں ورنہ وضع حمل کے بعد نکاح کر سکتے ہیں۔ تنویر و در مختار میں ہے: ”صح نکاح (حبلی من زنی لا) حبلی (من غيره) أى الزنى لثبوت نسبه (۲) رد المحتار میں ہے: قوله: (حبلى من غیر الخ) شمل الحبلى من نكاح صحيح أو فاسد أو وطأشبهةاو ملک یمین - الخ“ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (1) الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۶ ۱۵۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الدر المختار، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۱۴۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) ردالمختار، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۱۴۱، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) جب نکاح ہوا ہی نہیں تو شیخ کی کیا حاجت ؟ لڑ کی احتیاطاً عدت گزارے گی بعد انقضائے عدت نکاح دوسرے سے کیا جاسکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۲ / رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف