ولی اقرب کی موجودگی میں ولی ابعد یا اجنبی کے نکاح کرانے کا حکم اور نکاح فضولی
ولی اقرب کے ہوتے ہوئے ولی ابعد نے نکاح کرایا تو کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: ہندہ ( آسمہ بنت) کی شادی صغرسنی ( قبل بلوغ) زید سے ولی کی غیر موجودگی میں کر دی گئی کچھ دنوں کے بعد زید نے اپنی دوسری شادی کر لی۔ ہندہ اب بالغ ہو چکی ہے۔ مگر زید کے گھر نہیں جانا چاہتی ہے۔ (الف) ہندہ کی شادی ولی کی غیر موجودگی میں کر دی گئی تو کیا ولی کی غیر موجودگی میں اور اس کی بلا اجازت نکاح نافذ سمجھا جائے گا یا نہیں؟ (ب) چونکہ ہندہ کی شادی قبل بلوغ ہو چکی تھی اب وہ بالغ ہے تو کیا وہ اپنی مرضی سے نکاح فسخ کر سکتی ہے؟ (ج) جبکہ زید نے دوسری شادی کی اور ہندہ اس کے گھر نہیں جانا چاہتی اور زید طلاق بھی نہیں دے رہا ہے تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ اس سے طلاق لی جائے یا نہیں؟ اور اگر طلاق لی جائے تو اس کی کیا صورت ہے؟ از روئے شرع بیان فرمائیں۔ بینوا توجروا المستفتی: محمد الیاس، پرتاپ گڑھ (یوپی)
الجواب: (۱) ہندہ کا نکاح اگر اجنبی محض یا ولی ابعد نے ولی اقرب ہندہ مذکورہ کی بغیر اجازت کر دیا تو یہ نکاح فضولی ہوا جو قبل بلوغ ہندہ اجازت ولی پر موقوف تھا اگر ولی اقرب نے جائز کر دیا تھا تو صحیح و نافذ ہو گیا جبکہ نکاح کفو سے مہر میں بے غبن فاحش کے ہوا یا اگر غیر کفو سے یا مہر میں غبن فاحش کے ساتھ ہوا تو ضرور کہ ہندہ کے باپ یا دادا وغیرہ غیر معروف بسوء اختیار ایسے نکاح کی اجازت صریح غیر کفو جانتے ہوئے دی ہو اور اگر یہ نکاح غیر کفو سے یا غبن فاحش کے ساتھ اجنبی محض نے یا باپ دادا غیر معروف بسوء اختیار کی اجازت کے بغیر کسی اس کے قرابت دار نے کر دیا تو اصلاً نہ ہوا اور اگر ولی ابعد نے یہ نکاح کفو سے بے نین فاحش کے کیا اور ہندہ کا ولی اقرب غائب یہ غیبت منقطعہ تھا ( اور غیبت منقطعہ یہ ہے کہ ولی اقرب شہر سے دور یا خود شہر میں ایسا چھپا ہو کہ اس کی دریافت آنے تک کفوحاضر فوت ہو جائے ، یہی مختار ) تو یہ نکاح صحیح ونافذ ہوا البتہ ہندہ کو خیار بلوغ حاصل ہے اگر ہندہ نے بعد بلوغ فورا اپنے نفس کو اختیار کیا تو نکاح صبح ہو گیا۔ واللہ تعالی اعلم (۲) تفصیل گزری۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) قبل بلوغ اگر ولی نے جائز نہ کیا تھا تو اسے حق ہے جب کہ بعد علم نہ صراحۃ نہ دلالۂ اس نکاح سے راضی ہونہ بہ رضا ورغبت شوہر سے وطی کرائی ہو اور باپ دادا کے بغیر کسی ولی نے نکاح کیا تھا تو خیار بھی حاصل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ بعض نصوص مسئلہ اسی درمختار میں ہے: وو وللولى انكاح الصغير والصغيرة جبرا ولو ثيبا و لزم النکاح ولو بغبن فاحش بنقص مهرها وزيادة مهره أو زوجها بغير كفوان كان الولى المزوج بنفسه بغبن أبا أو جداً لم يعرف منهما سوء الاختيار من غير كفو و غبن فاحش اصلا وان كان من کفو وبمهر المثل صح ولكن لهما خيار الفسخ ( وللولى الابعد التزويج بغيبة الاقرب) فلو زوج الابعد حال قيام الاقرب توقف على اجازته ولو تحولت الولاية اليه لم يجز الاباجازته بعد التحول قهستانی و ظهيرية (مسافة القصر) واختار في الملتقى مالم ينتظر الكفوء الخاطب جوابه و اعتمده الباقانی و نقل ابن الكمال أن عليه الفتوى- الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب فقیر محمد مصطفی رضا القادری غفرلہ تحسین رضا غفرلہ