سنی عورت کا شیعہ مرد سے سول میرج اور اس کے نکاح کی شرعی حیثیت کا بیان
مہربانی کر کے فتویٰ دینے کی نوازش کریں! گزارش یہ ہے کہ میں نے اپنی مرضی سے بغیر ماں باپ کی اجازت کے ایک نوجوان سے سنی حنفی المذہب سمجھ کے سول میرج کر لی تھی اس مجلس میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں تھا بعد کو معلوم ہوا کہ میرا شوہر شیعہ ہے اس لئے میں ایک ماہ بعد اس سے الگ ہوگئی اور ماں باپ کے پاس چلی آئی ہوں لہذا مجھے کو از روئے شرع شریف بتلایا جائے کہ میرا نکاح ہوا یا نہیں؟ اور اس شیعہ شوہر سے طلاق لینے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ میں بہر حال سنی حنفی المذہب ہوں اور کسی طرح بھی شیعہ شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی ہوں۔ المستقنيه : شمع، نقلی تال، پچھاڑی بازار، دوکان نمبر ۱۵۴، نینی تال
الجواب: رسول میرج میں اگر یہ طریقہ برتا جاتا ہے کہ زن وشو ہر گواہان مسلم کے سامنے ایجاب وقبول نہیں کرتے بلکہ محض ایک رشتہ پر اکتفا کرتے ہیں جب تو کسی سنی صحیح العقیدہ سے بھی نکاح نہ ہوگا۔ در مختار میں ہے: ” ولا بكتابة حاضر بل غائب (1) “ پھر شیعہ تو اپنے عقائد کفریہ کے سبب مرتد ہے اور مرتد کا نکاح کسی سے جہاں بھر میں صحیح نہیں۔ اسی در مختار میں ہے: ولا يصلح ان ينكح المرتد احدا من الناس مطلقا (۲) لہذا صورت مسئولہ میں نکاح اصلانہ ہوا عورت کو شرعا اختیار ہے کہ جس سے نکاح جائز ہو، شرعی طور پر کر لے مگر قانونی دشواری سے بچنے کے لئے کچہری سے آزادی حاصل کر لے اگر چہ یہ آزادی شرعاً کوئی چیز نہیں جس سے نکاح صحیح پر اثر پڑ سکے کیونکہ صورت مسئولہ میں تو نکاح ہی نہ ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۶ ؍رجب المرجب ، ۱۴۰۱ھ الدر المختار، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۷۳ دار الكتب العلمية بيروت (۲) الدر المختار، کتاب النکاح باب نكاح الكافرج ۴، ص ٣٧۶، دار الكتب العلمية بيروت