باپ کی موجودگی میں دادا کے کیے ہوئے نکاح صغیرہ کا شرعی حکم
مسئله - ۱۸ باپ کی موجودگی میں دادا نے صغیرہ کا نکاح کر دیا تو کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : ہندہ کا نکاح اس کے دادا نے کمسنی ہی میں کر دیا تھا جبکہ ہندہ کے والدین بھی موجود تھے اب ہندہ باشعور ہوئی تو وہاں جانے سے مسلسل انکار کرتی رہی، اس کے والدین بھی کہتے ہیں کہ نکاح پڑھاتے وقت ہم لوگ راضی نہیں تھے۔ ایسی صورت میں ہندہ کیا کرے؟ پہلی فرصت میں کوئی راستہ نکال کر جواب سے مشکور فرمائیں۔ مستفتی: حکمدار، موضع سور با پوست را جے ڈیہا بازار ضلع بستی ، یوپی
الجواب: دادا اگر غیر معروف به سوء اختیار تھا یعنی پہلے اپنی کسی نابالغ اولاد کا نکاح غیر کفو یا مہر میں غبن فاحش کے ساتھ نہ کر چکا ہوتو یہ نکاح صحیح و لازم ہو گیا اگر چہ غیر کفو سے ہو یا مہر میں مین فاحش ہوا ہو جبکہ اس نے خود کیا ہو اب بے طلاق وانقضائے عدت چارہ کار نہیں ۔ در مختار میں ہے: لزم النكاح ولو بغين فاحش بنقص مهرها وزيادة مهره اوزوجها بغير كفؤ ان كان الولى ابا اوجد الم يعرف منهما سوء الاختيار مجانة وفسقا ملخصا (٢) رد المحتار میں ہے: والحاصل ان المانع هو كون الأب مشهورا بسوء الاختيار قبل العقد فاذا لم يكن مشهورا بذالک ثم زوج بنته من فاسق صح و ان تحقق بذالک انه بسئ اختیارهای و اشتهر به عند الناس فلو زوج بنتا اخرى من فاسق لم يصح الثاني - الخ اور اگر معروف بہ سوء اختیار تھا اور اس نے غیر کفو سے نکاح کیا یا مہر میں بہت فاحش کمی منظور کی تو نکاح صحیح نہ ہوا یونہی دادا نے اگر خود نکاح نہ کیا بلکہ کسی کو وکیل کیا اور اس نے غیر کفو یا مہر میں غبن فاحش کے ساتھ نکاح کر دیا تو یہی حکم ہے جو گزرا۔ اسی درمختار میں ہے: وان عرف لا يصح النكاح اتفاقا وان كان المزوج غيرهما اى غير الأب وابيه ولو الأم او القاضي او وكيل الأب لا يصح النكاح من غير كفو او بغبن فاحش اصلا یہاں سے ظاہر کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ نکاح غیر کفو سے یا مہر میں غبن فاحش کے ساتھ ہوا اور اگر نکاح کفو سے ہوا اور مہر میں غبن فاحش نہ ہو تو نکاح صحیح ہو اگر نابالغہ کوخیار فسخ ہے اگر اس نے بعد بلوغ یا بعد علم نکاح فسخ کردیا تو فسخ ہو گیا اور اگر توقف کیا تو خیار فسخ جاتا رہا۔ ای در مختار میں ہے: وان كان من كفو وبمهر المثل صح لكن لهما خيار الفسخ بالبلوغ او العلم بالنكاح مختصرا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ (1) ردالمحتار، کتاب النکاح باب الولى ج ۴، ص ۱۷۲ دار الكتب العلمية بيروت (۲) الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی ج ۴، ص ۱۷۴، ۱۳، ۱۷۲ دار الكتب العلمية بيروت (۳) الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی ج ۴، ص ۱۷۵ ، ۱۷۴ ، دار الكتب العلمية بيروت