جبر و اکراہ اور اغوا و فروخت کے بعد کیے گئے نکاح کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و حاکمان شریعت مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہندہ غیر شادی شدہ تھی اس کو ایک شخص عمر فریب دے کر دوسرے ملک یعنی نیپال لے گیا۔ اور وہاں پر خفیہ مبلغ تین سو روپے (بھارتی) پر زید کے ہاتھ فروخت کر دیا جس کا علم ہندہ کو نہ ہوا زید نے ہندہ پر سختی کی اور زبردستی نکاح کرنے کو کہا مگر ہندہ نے انکار کر دیا لیکن اس کے ساتھ جبر أوقہر أعقد کر لیا ہندہ ایک رات رہ کر زید کے وہاں سے بھاگ آئی اور عمر کے یہاں مثل بھائی بہن کے رہنے لگے ہندہ کو جب اپنے بکنے کا علم ہوا تو عمر سے کہا کہ اس کا روپیہ دے کر میر اطلاق لے لو عمر نے کہا کہ میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں جو طلاق لے لوں تقریباً تین چار ماہ بعد لوگوں نے مل کر ہندہ کا عقد شرع بھارت میں دوسرے بکر کے ساتھ کر دیا اور ہندہ رہنے لگی کچھ لوگ بکر سے معترض ہیں اور بکر کو مسجد یا عیدگاہ میں نماز پڑھنے سے یا جماعت میں شریک ہونے سے منع کرتے ہیں پس ایسی صورتوں میں کون سا نکاح از روئے شریعت مطہرہ درست ہے اور ملزمان شریعت کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ عام مسلمانوں کو اور بکر کے بارے میں کیا حکم ہوتا ہے؟ جو نماز با جماعت میں شرکت کرنے سے منع کرتے ہیں جواب باصواب سے جلد مطلع فرمائیے گا۔اس کا ایک اجر عظیم آپ کو ملے گا اس کا جواب بہت جلد خدا کے لئے روانہ فرمائیے گا۔ مستفتی: خلیل احمد تاج کتب ، حاجی بکڈپو گاندھی پارک قصبہ ڈاکخانہ نان پارہ بہرائچ ۱۰ فروری ۱۹۷۲ء جمعرات
الجواب: صورت مسئولہ میں فی الواقع جس نے اسے اغوا کیا اور بیچا اور جس نے اسے خریدا نیز جس جس نے اسے نکاح پر مجبور کیا، سب سخت گنہ گار مستوجب عذاب نارحق العبد اور حق اللہ میں گرفتار ہوئے لیکن اگر ہندہ نے نکاح کا اذن دیا اگر چه جبر او ہرا ہی ، جبکہ زید نسب و پیشہ وغیرہ کے اعتبار سے ہندہ کے ہمسر تھا اور مہر میں غبن فاحش نہ ہوا تو یہ نکاح منعقد ہو گیا کہ نکاح میں سنجیدگی ، مذاق اورا کراہ برابر ہیں اس صورت میں زید جب تک طلاق نہ دے دے یا مر نہ جائے یا معاذ اللہ مرتد نہ ہو جائے دوسرا نکاح جائز نہیں۔ اور اگر زید ہندہ کا کفونہ تھا یا پھر مہر میں غبن فاحش ہوا تو نکاح ہی نہ ہوا۔ در مختار میں ہے: ”ویفتی فی غیر الکفو بعدم جوازه اصلا وهوالمختارللفتوى لفساد الزمان ) واللہ تعالیٰ اعلم اس صورت میں پہلا نکاح نہیں ہوا تو دوسرا نکاح صحیح ہے اور بکر پر کوئی الزام نہیں اور اگر زید سے نکاح منعقد ہو گیا تھا پھر بھی بکر نے جانتے ہوئے ہندہ سے نکاح کیا تو وہ نکاح نہ ہوا۔ اس صورت میں بکر پر لازم ہے کہ ہندہ سے فورا علیحدہ ہو جائے اور توبہ واستغفار کرے اس صورت میں جب تک بکر ہندہ کو علیحدہ نہ کرے اور توبہ و استغفار نہ کرے شرعاً اس سے میل جول ناجائز ہے، مگر جمعہ و جماعت و مسجد کی حاضری سے نہ روکا جائے جن لوگوں نے روکا وہ تو بہ کریں ، اور اس پابندی کو اٹھا ئیں اور اگر صورت یہ ہو کہ بکر کو بتایا بھی نہ گیا ہو کہ ہندہ کا نکاح زید سے ہو چکا تھا یا بتایا گیا ہومگر یہ کہہ دیا گیا ہو کہ اس نے طلاق دے دی اور عدت گزرگئی تو یہ نکاح فاسد ہوا اور بعد علم متارکہ فرض ہے۔ یعنی شوہر کہے کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا یا عورت یہ کہے کہ میں اس سے جدا ہوگئی اس صورت میں اگر بکر متارکہ نہ کرے تو بھی اس سے میل جول نا جائز ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ محرم الحرام ۱۳۹۲ھ/ ۱۲ / فروری ۱۹۷۲ء الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی