عاقلہ بالغہ لڑکی کی اجازت اور اذن کے بغیر جبراً نکاح کر دینے کا حکم
۱۱؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ بالغہ سے اجازت کے بغیر لوگوں نے نکاح کر دیا، کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید نے اپنی لڑکی کی بات چیت یعنی نسبت عمرو کے لئے کر دی تھی اب اس دوران میں بکر نے اس لڑکی کے نکاح کا پیام دوسری جگہ کے لئے دیا تو زید نے کہا کہ اس لڑکی کی بات چیت میں کر چکا ہوں اگر آپ کو اپنے پیام کا پاس ہے تو میں منجھلی لڑکی کر سکتا ہوں وہ بھی جب کہ میں خود دیکھ بھال لوں ، اب بکر نے یہ کیا کہ ان لڑکیوں کا بھائی جو دوسرے گاؤں میں رہتا تھا اس کو کچھ رقم دے دلا کر اس سے مہمانی کے واسطے اسی بڑی لڑکی کو جس کی نسبت ہو چکی تھی بلوا کر نکاح پڑھوانا چاہا۔ تولڑکی نے اذن دینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میری نسبت عمرو کے ساتھ ہو چکی ہے لڑکی عاقل و بالغ پڑھی لکھی ہے مگر ویسے ہی وکیل شاہدوں نے کہہ دیا کہ اذن دے دیا زید کو جب پتہ چلا تو ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لڑکی کو لینے گیا تو زید سے وہاں کے کچھ لوگوں نے کہا اس کا تو نکاح ہو چکا ہے تو زید نے پردھان سے کہا، پردھان نے و دیگر پنچوں نے لڑکی سے پوچھا کیا تیرا نکاح ہو گیا ہے لڑکی نے پردھان و پنچایت کے رو برو قسم کھا کر کہا کہ میں نے اذن نہیں دیا ہے جبراً نکاح کیسا؟ پردھان و پنچایت نے لڑکی زید کے حوالے کر دی زید اپنے
الجواب: صورت مسئولہ میں وہ نکاح زید کی دختر کی اجازت پر موقوف ہو اوہ اگر جائز کر دیتی ، جائز ہوتا۔ اس نے فوراً بلا توقف رد کر دیا تو رد ہو گیا۔ زید کو اختیار ہے کہ اپنی دختر کا نکاح دوسرے سے کر دے اور اگر بعد نکاح صراحت یا دلاله دختر زید نے رضا مندی ظاہر کی اگر چہ ایک آن کو سہی تو نکاح صحیح ولازم ہو گیا اب بے طلاق چارہ کار نہیں۔ اور یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ وہ مرد جس سے دختر زید کا نکاح ہوا۔ نسب و پیشہ میں اس کا کفو ہو۔ ورنہ نکاح اصلاً منعقد نہ ہوا۔ ،، در مختار میں ہے : و یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى الفساد الزمان ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸ رذی الحجہ ۱۴۰۰ھ