بعد طلاق سالے کی بیوی حلال یا حرام؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: سالے کی بیوی کے ساتھ قبل از طلاق بہنوئی کے ناجائز تعلقات ہوں یعنی ولی یالمس وغیرہ اور سالہ جب اپنی بیوی کو طلاق تین دے دے بعد گزرنے عدت کے وہ عورت مطلقہ اس بہنوئی پر جائز ہے یا نہیں؟ بعض مولوی اس سالہ کی بیوی کو بہنوئی پر حلال بتاتے ہیں اور بعضے حرام جو حرام بتاتے ہیں وہ حرمت مصاہرت کی دلیل پیش کرتے ہیں کہ طلاق سے پہلے شہوت کی نظر سے بوسہ وغیرہ ، بہنوئی میں افعال قبیحہ پائے جاتے تھے اور اسی وجہ سے طلاق بھی واقع ہوئی تو ہر صورت سے وہ سالہ کی بیوی بہنوئی پر حرام ہے اس لئے علمائے کرام سے استدعا ہے کہ بحوالہ کتب معتبرہ و قرآن و احادیث صحیحہ سے جواب با صواب سے سائل کو مشکور فرما ئیں عین نوازش ہوگی المستفتی: محمد اسماعیل چیست رام شکر و اس بزار ڈوگرا بازار، پوسٹ چمپہ ہمائل ، ( ہماچل پردیش)
الجواب: صورت مسئولہ میں سالے نے جبکہ اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور عدت گزرچکی تو بہنوئی کا نکاح اس سے جائز ہے۔ قال تعالیٰ: وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاء ذَلِكُمْ - الآية } () یہ حکم جب ہے جبکہ ان دونوں کے درمیان کوئی قرابت محرمہ نہ ہو جو نکاح سے مانع ہو ورنہ نکاح اس قرابت محرمہ کے سبب حرام ہوگا اور حرمت مصاہرت سالے کی بیوی میں ثابت نہیں ہوتی جنہوں نے بے دلیل شرعی نا جائز کہا ان پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) سورة النساء: ۲۴ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۶ / رمضان المبارک ۱۳۹۲ھ