بد مذہب سنیہ کا کفو نہیں !
علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ : والدین نے گھبراہٹ میں آکر اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا جبکہ کوئی عزیز اس نکاح میں شریک نہیں ہوا اس وجہ سے کہ یہاں افیون و چرس کا کام ہوتا ہے لڑکے کی والدہ بھی بھاگ گئی تھی غرض یہ کہ زنا کاری بھی ہوتی تھی لڑکا بھی جو کھیلتا ہے الغرض یہ کہ ہر بر افعل ان کے یہاں ہوتا ہے تو ایسی حالت میں نکاح ہوا یا نہیں اور ابھی رخصت بھی نہیں کی ہے لڑکی اپنے والدین کے گھر ہی ہے اور وہ لوگ یعنی لڑکے کے والدین سرائے خام والوں سے بھی ملتے ہیں ان کے یہاں آنا جانا کھانا پینا بھی ہوتا ہے یہاں تک کہ ان کے اجتماع میں بھی شریک ہوتے ہیں لڑکی کے والدین کو ان کے افعال کا علم نہ تھا اب علم ہوا ہے تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی صورت نکل آئے کہ لڑکی کو چھٹکارامل جائے لڑ کا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے اب ایسی صورت میں وہ لڑکا طلاق دے یا نہ دے لڑکی دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ صاف صاف تحریر کیجئے گا۔ فقط والسلام المستفتی: مشتاق حسین نوری، محلہ جسولی، بریلی شریف
الجواب: بر تقدیر صدق سوال اگر یہ امر خوب متحقق ہے کہ لڑ کا بد مذہب وہابی بایں طور کہ وہابیہ کے عقائد کفریہ رکھتا ہے یا عقائد کفریہ رکھنے والے لوگ مثلا دیو بندی وغیرہ کو مسلمان جانتا ہے تو انہیں کی طرح کافر بے دین ہے اور اس کا نکاح باطل اور اگر وہابیہ کے عقائد کفریہ نہیں رکھتا مگر اہل سنت کے معمولات جائزہ مثل فاتحه وزیارت قبور و میلا دو قیام وغیرہ کو نا جائز سمجھتا ہے تو بد مذہب ہے اور بد مذہب سنیہ کا کفو نہیں ایسی صورت میں اگر اس کا بدمذہب ہو نا وقت نکاح ولی زن کو معلوم نہ تھا تو یہ نکاح اصلاً منعقد نہ ہوا۔ در مختار میں ہے: ويفتي في غير الكفو بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى الفساد الزمان (1) لڑکی کو دوسرا نکاح جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰/ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ثناء المصطفیٰ وارد حال بریلی شریف ۱/۲۵ پریل ۱۹۸۲ء