مہر کی مقدار میں اختلاف کی صورت میں شرعی حکم اور گواہی و قسم کا طریقہ کار
شامل نہیں ہے صرف ڈھائی سو روپیہ موقوف ہے اور زید کے سسر صاحب یعنی لڑکی کے والد صاحب کا کہنا ہے کہ میری لڑکی کے نکاح کے وقت دین مہر میں دوسور و پیہ دو اشرفی اور زیور شامل ہے۔ اور حضرت مولانا صاحب جنہوں نے نکاح پڑھایا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نکاح کا رجسٹر میرے پاس نہیں ہے بہت سارے نکاح بغیر رجسٹر کے پڑھایا گیا ہے لیکن اتنا یاد ہے کہ زید کا نکاح میں نے پڑھایا ہے اور نکاح کے وقت دین مہر پانچ سو روپیہ یا دوسورو پیہ تھا اور دواشرفی شامل ہے ۔ مگر زیور شامل نہیں ہے ۔ لہذا ایسی حالت میں زید کیا کرے؟ شرع میں اس کے دین مہر کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی ؟ خلاصہ تحریر فرمائیں۔ المستفتی: محمد شمس الدین نوری نور تھے گوالیار و، پوسٹ انگلس ضلع ہوگی
الجواب: صورت مسئولہ میں یہ طلاق اگر بعد خلوت زن و شو ہر واقع ہوئی تو درمیان میں جو اپنے دعوئی پر گواہان عدول شرعی قائم کر دے گا اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا اور اگر دونوں اپنے اپنے موافق گواہ شرعی دیدیں تو عورت کے مہر مثل پر نظر کریں گے، اگر وہ اس کے برابر یاز ائد ہو جتنازید کے والد نے دعوی کیا تو اسی قدر کی ڈگری ہوگی جس کا والد زید کو قرار ہے۔ اور اگر اس مقدار سے کم ہے تو جتنا مہر مثل ہے، وہی دینالازم ہوگا اور اگران میں کوئی اپنے دعوئی پر گواہ نہ لاسکے تو بھی مہر مثل کو دیکھیں گے۔ اگر اتنی مقدار سے جو سوال میں والد زید نے بتائی، زیادہ یا برابر ہوا تو عورت یا اس کا ولی یا وکیل قسم کھائے کہ واللہ میرا نکاح اس مقدار پر نہ ہوا۔ اگر قسم کھالی تو جس قدر کا دعوی ہے وہی دینا ہوگا اور بصورت انکار شوہر کے والد کی بتائی ہوئی مقدار قرار پائے گی اور اگر مہر مثل اس سے کم ہوا تو شو ہر قسم کھائے، واللہ میں نے اس عورت سے اس مبلغ پر جو سر زید بتا تا ہے، نکاح نہ کیا۔ اگر تم کھالے گا تو وہی رقم عورت کو دلائی جائے گی جتنی پدر زید بتاتا ہے اور قسم سے انکار کرے تو عورت کی طرف سے جتنی مقدار کا دعوی ہے وہ لازم ہوگی اور اگر عورت کا مہرمشل ڈھائی سو روپیہ سے زائد اور اس مقدار سے کم ہو جو اس کی طرف سے بتائی گئی تو دونوں طرف والوں سے قسم لیں گے اور شوہر کی طرف سے ابتدا بہتر ہے۔ اگر شوہر یا اس کا وکیل انکار کرے تو عورت کی طرف کا دعوی ثابت اور اگر قسم کھالے تو عورت یا اس کے ولی سے قسم لیں ۔ اگر وہ انکار کرے تو شوہر کا دعوی ثابت اور وہی رقم اسے دینا لازم جس کا اقرار پدر زید نے کیا اور اگر قسم کھائے تو مبرش دلایا جائے گا۔ فی تنویر الابصار و والدر المختار : ان اختلفا في قدره حال قيام النكاح اى قبل الدخول او بعده وكذا بعد الطلاق والدخول رحمتى) فالقول لمن شهد له مهر المثل بیمنه و ای امام بيئة قبلت سواء شهد مهر المثل له اولها اولا ولا وان اقاما البينة فبينتها مقدمة ان شهد مهر المثل له و بنيته ان شهد لها لان البينات لاثبات خلاف الظاهر وان كان مهر المثل بينهما تحالفا فایهمانكل لزمه دعوى الآخرفان حلفا او برهنا قضی به ای بمهر المثل - اهملتقطا (۱) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دارالافتاء، ۸۲ سوداگران، بریلی ۱۴ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ