بے اذن بالغہ نکاح اس کی اجازت پر موقوف ہوگا !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:زید اور بکر کے مکان قریب قریب ہیں اور دونوں کے مکانوں میں ایک دوسرے کا آنا جانا تھا زید کی بیوی لا ولد ہے اور اسی کے قریب اس کی بہن بھی الگ مکان میں رہتی ہے بکر کے بھی لڑکے لڑکیاں اور بیوی ہے۔ زید کی بیوی اور بہن نے بکر کی لڑکی کو ورغلا کر دھو کے سے ایک نکاح نامہ پر اور دوسرے ایک انگریزی میں چھپے ہوئے کورٹ کے کاغذ پر دستخط کرالئے جبکہ لڑکی سے کسی وکیل یا گواہ نے کوئی اذن نہیں لیا نہ وہ کورٹ گئی لڑکی قسم کھا کر کہتی ہے کہ مجھ کو بالکل معلوم نہیں کیا معاملہ ہے۔ زید کی عمر لگ بھگ ۴۰-۳۵ سال ہے جبکہ لڑکی کی عمر ۲۲ سال ہے اس طرح دستخط لے کر کورٹ سے کسی ترکیب سے لو میرج کی رسید لے لی ہے اور نکاح کی بھی رسید لے لی ہے شریعت اسلامیہ کے مطابق فتوی عنایت فرما یا جاوے کہ شریعت کے مطابق بکر کی لڑکی اس طرح زید کے نکاح میں آگئی اور زوجہ ہوگئی؟ اور اگر نکاح نہیں ہوا تو ان لوگوں کے لئے جن کا اس کام میں حصہ ہے، ان کے لئے شروع کیا حکم دیتی ہے ؟ تحریر فرمائیں۔ فقط المستلقي: ارشاد احمد بهرام نگر ، باندرہ، ایسٹ ممبئی
الجواب:اگر یہ واقعہ ہے کہ لڑکی نے اپنے نکاح کا اذن کسی کو نہ دیا نہ اس کاغذ پر اس نے اجازت نامہ سمجھ کر دستخط کئے تو یہ نکاح فضولی ہوا جو اس لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوا جبکہ لڑکا لڑکی کا نسب پیشہ اور چال چلن میں کفو ہو ۔ اگر کسی طرح اس نے جائز کر دیا ہو تو جائز ہو گیا اور رد کر دیا تو رد ہو گیا ، بشرطیکہ مجلس میں اس فضولی اور نوشہ میں زبانی ایجاب و قبول ہوا ہو اور اگر زبانی ایجاب وقبول نہ ہوا ہو بلکہ تحریر پر اکتفا کیا تو نکاح اصلاً منعقد نہ ہوا۔ درمختار میں ہے:(1) ،، ولابكناية حاضر (1) الدر المختار، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۷۳، دار الكتب العلمية بيروت یونہی لڑکا اگر لڑکی کا کفو نہ تھا تو نکاح نہ ہوا۔ در مختار میں ہے: ” و یفتی فی غير الكفو بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى الفساد الزمان ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله