نابالغی میں والدین کے کرائے ہوئے نکاح کے فسخ اور خیارِ بلوغ کا حکم
لڑکی ساجدہ کا نکاح احمد نور کے ساتھ اس وقت ہوا جبکہ ساجدہ کی عمر ایک یا دو سال کی تھی اور احمد نور کی عمر تین یا چار سال کی تھی ۔ نکاح کے وقت ایجاب و قبول، چوں کہ والدین نے کیا تھا نکاح کے بعد آج تک ساجدہ سسرال نہیں گئی اور نہ آج تک ساجدہ اور احمد نور کی کہیں کسی جگہ تنہائی ہوئی اب اس وقت ساجدہ کی عمر پندرہ یا سولہ سال کی ہے یعنی وہ بالغہ ہے قریب ایک سال ہوا جبکہ ساجدہ نے اپنے میکہ میں اپنی آنکھ سے اتفاق سے احمد نور کو دیکھا تو اس کو نا پسند کیا اور عورتوں سے کہلوایا کہ میں احمد نور کو نا پسند کرتی ہوں اور اس کی زوجیت میں رہنا پسند نہیں کرتی ہوں ، عورتوں سے ساجدہ کی یہ بات مردوں کے ذریعہ احمد نور اور اس کے والدین کو پہنچا دی اس کے بعد ساجدہ نے تحریری طور پر بذریعہ ڈاک با قاعدہ زید کو اطلاع دے دی کہ میرا نکاح جو نا بالغی میں تمہارے ساتھ ہوا تھا، اس کو فسخ کرتی ہوں اور تمہاری زوجیت میں رہنا نہیں چاہتی۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ: (1) ساجدہ اپنا نکاح فسخ کر سکتی ہے یا نہیں ؟ اور اس کے یہ بات کہنے پر ساجدہ کا نکاح فسخ ہو گیا یا نہیں ؟ (۲) یا ساجدہ کو با قاعدہ کچہری سے طلاق لینا چاہئے؟ (۳) اگر او پر کہی بات سے ساجدہ کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے تو ساجدہ پر عدت گزار نالازم ہوگا یا وہ بغیر عدت کے دوسرا نکاح کرسکتی ہے؟ لمستفتی : حسین بخش رٹائر پٹواری مقام و پوسٹ رام سر ضلع اجمیر ، راجستھان
الجواب: باپ دادا غیر معروف بسوء اختیار جو نکاح اپنی نابالغ اولاد کا کر دیں وہ لازم ہو جاتا ہے اور بعد بلوغ صبح کا اختیار نہیں رہتا۔ در مختار میں ہے: لزم النكاح ان كان الولى المزوج ابا أوجد الم يعرف منهما سوء الاختيار - ملتقطاً)) لہذا ساجدہ کا والد اگر معروف بہ سوء اختیار نہ تھا یعنی اس نے پہلے کسی نابالغ بچی کا نکاح غیر کفو سے یا مہر میں غبن فاحش سے نہ کیا تھا تو یہ عقد لازم ہو گیا اور ساجدہ کو خیار فسخ نہیں اب جب تک شوہر طلاق نہ دیدے کچہری کی لغو آزادی سے دوسرا نکاح اسے ہرگز حلال نہ ہوگا اور اگر ہنوز خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہے تو طلاق کے بعد عدت لازم نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف ۴ / ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ