مہر کے بارے میں وکیل کا یہ کہنا کہ یہ ادا کرنے کی چیز نہیں ہے اس کا شرعی حکم
سکہ رائج الوقت کے لئے وکیل صاحب نے زید سے کہا۔ زید یہ کہہ کر کہ مہر بہت زیادہ ہے، میں نے منظور نہیں کرا۔ تو وکیل صاحب زید کو سمجھاتے ہوئے بولے کہ تم اسے قبول کرلو، یہ ادا کرنے کی چیز نہیں ہے نہ یہ ادا کیا جاتا ہے، صرف زبان سے کہہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جب لڑکے نے منظور نہیں کیا تو وکیل صاحب نے پانچ سوروپے کم کرتے ہوئے اس بات کی دھمکی دی کہ اب یہ ساڑھے چار ہزار روپے تم کو منظور کرنا پڑیگا، اگر نہیں منظور کرتے ہو تو اپنی بارات واپس لے جاؤ۔ اس کے بعد زید نے مہر ایجاب کے ساتھ قبول کر لیا۔ سوال اس بات کا ہے کہ وکیل صاحب نے مہر کے بارے میں جو کچھ یہ کہا، از روئے شریعت درست ہے یا نہیں؟ اور نکاح میں کوئی فرق نہیں آتا ؟ وکیل و گواہان صاحبان کے نام و پتہ حسب ذیل: وکیل: نعیم خاں، موضع گر ضلع شیڈول (ایم پی ) گواه (۱) رؤف خاں، موضع امر کا ضلع ریور (ایم۔ پی ) گواه (۲) حبیب خاں ،شہر شہڈ ول (ایم۔ پی ) لہذا مہر بانی فرماتے ہوئے اس کا جواب جلد سے جلد روانہ فرمایا جائے ! المستفتی: حبیب خاں شہر شہڈ ول (ایم پی )
الجواب: وکیل کو یہ کہنا جائز نہ تھا کہ یہ ادا کرنے کی چیز نہیں ہے نہ یہ ادا کیا جاتا ہے کہ یہ گناہ کی ترغیب ہوئی اور شریعت پر افتراء علیحدہ مہر کا ادا کر نا مہ شوہر پر لازم ہے اور ادا نہ کرنے کی نیت سے نکاح کرنا گناہ ہے۔ حدیث میں فرمایا کہ ایسا شخص قیامت کے دن زانی اُٹھے گا مگر اس سے نکاح میں فرق نہیں آیا بلکہ نکاح مذکور صحیح و نافذ ہے جبکہ لڑکی اپنا بالغ ہونا بتاتی ہو اور اس کی ظاہری حالت اس کے اقرار کو نہ جھٹلاتی ہو۔ ورنہ اس کے باپ یا دادا کی اجازت پر موقوف ہے۔ انہوں نے اگر جائز کر دیا، جائز ہو جائے گا اور رد کر دیا تو رد ہو جائے گا اور اگر باپ دادا نہ ہوں تولڑکی کے ولی اقرب کی اجازت پر موقوف ہے اور اگر ولی اقرب غائب به غیبت منقطعہ تھا اور غیبت منقطعہ یہ کہ ولی ایسی جگہ ہو کہ اس کی رائے معلوم ہونے تک کفو حاضر فوت ہو جائے تو ولی ابعد کی اجازت پر موقوف ہے اور باپ دادا کے علاوہ دیگر اولیا کی اجازت سے جائز اس وقت ہوگا جبکہ مہر میں غبن فاحش نہ ہوا ہو اور نکاح کفو سے ہوا ہو کہ باپ دادا اگر غیر کفو میں مہر میں غبن فاحش کے ساتھ اپنی اولاد کا نکاح کر دیں تو نافذ ہے جبکہ معروف به سوء اختیار نہ ہوں۔ درمختار میں ہے: فان راهقاً بلغا هذا السن فقالا بلغنا صدقا ان لم يكذبهما الظاهر كذا قيده في العمادية وغيرها )) اسی در مختار میں ہے: لزم النكاح بغبن فاحش بنقص فى مهرها وزيادة فى مهره او زوجها بغير كفوان كان الولى المزوج بنفسه بغبن أبا أو جداً و كذا المولى ابن المجنونة لم يعرف منهما سوء الاختيار وان عرف لا يصح النكاح اتفاقاً وان كان المزوج غيرهما لا يصح النكاح من غير كفو أو بغبن فاحش اصلا‘(۲)۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله