بغیر گواہوں کے نکاح کی شرعی حیثیت اور نکاح فاسد کا حکم
قبول کیا اب زید نے خطبہ پڑھا اور مہر مقرر کیا۔ پھر دونوں نے میاں بی بی کی طرح رہنا شروع کیا جب بکر کو معلوم ہوا تو بکر نے کہا نکاح نہیں ہوا۔ نکاح میں دو گواہ ضروری ہے ، دونوں کے تعلقات مثل زنا ہوئے اور یہ حرام ہے پھر زید نے عمرو سے پوچھا عمرو دینی مسائل کی کچھ واقفیت رکھتا ہے تو عمرو نے کہا کہ نکاح اگر چہ قاضی کے نزدیک نہیں ہوالیکن عند اللہ نکاح ہو گیا۔ نکاح میں گواہ کی شرط اسی لئے ہے تا کہ آئندہ جھگڑ اوغیرہ میاں بی بی کے درمیان نہ ہو یہ کہنے کے بعد عمر و یہ حوالہ پیش کرتا ہے عورت نے مرد سے کہا میں نے تجھ سے اپنا نکاح کیا اس شرط پر مجھے اختیار ہے جب چاہوں اپنے کو طلاق دے لوں ،مرد نے قبول کیا تو نکاح ہو گیا اور عورت کو اختیاررہا جب چاہے اپنے آپ کو طلاق دے لے۔ (عالمگیری) بہار شریعت ص ۹، حصہ ہفتم ، اس کے بعد عمرو کہتا ہے کہ اس مسئلہ کے اعتبار سے نکاح ہو گیا اس مسئلہ میں بھی گواہ کا ذکر نہیں ہے۔ اب ضروری امر طلب یہ ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان دونوں کا نکاح ہوا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا تو شرع کے نزدیک ان دونوں پر کیا سزا ہوگی؟ اور ان دونوں کے تعلقات زنا کے مثل ہیں یا نہیں؟ عند اللہ ا عند القاضی نکاح ہوا یا نہیں ہوا ؟ اور عمرو بکر میں سے کس کا قول صحیح ہے اور عمر کا حوالہ وغیرہ صحیح ہے یا نہیں۔ جواب جلد از جلد دیگر کرم فرما ئیں نوازش ہوگی ۔
الجواب: صورت مسئولہ میں نکاح فاسد ہوا۔ در مختار میں ہے: وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود اسی میں ہے: و شرط حضور شاهدین عاقلين بالغین (۲) مردوزن دونوں پر متارکہ جدائی فرض ہے متارکہ یہ ہے کہ مرد کہے کہ میں نے تجھے چھوڑا یا اسے چھوڑا ، یا عورت کہے کہ میں تجھ سے یا اس سے جدا ہوئی اور مردوزن کو با ہم صحبت حرام مگر اس صورت میں قربت زنا نہ قرار پائے گی کہ شبہ عقد قائم ہے۔ (۱) الدر المختار، کتاب النکاح باب المهر، ج ۴، ص ۲۷۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الدر المختار، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۸۷، دار الكتب العلمية، بيروت ہندیہ میں ہے: ” ( وشبهة العقد) فان العقد اذا وجد حلالاً كان او حراماً متفقا على تحریمه او مختلفا فيه علم الواطئ أنه محرم او لم يعلم لا يجد عند ابي حنيفة رحمة الله تعالى() اسی میں ہے: وان كان النكاح مختلفا فيه كالنكاح بلا شهود أو بلا ولى فلا حد عليه اتفاقا ،، لتمكن الشبهة عند الكل () اور یہ نکاح ناجائز و گناہ ہوا اور مردوزن ہر ایک کو فسخ کا اختیار ہے بلکہ لازم ہے۔ در مختار میں ہے: ”لکل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها اولا في الاصح خروجا عن المعصية فلا ينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما (۳) رد المحتارو ہندیہ میں ہے: واللفظ للاول : " فى البزازيه المتاركة فى الفاسد بعد الدخول لا تكون الا بالقول کخلیت سبیلک او ترتكتك ومجرد انكار النكاح لا يكون متاركة اما لو انكر وقال اذهبي وتزوجى كان متاركة وقبل الدخول ايضا لا يتحقق الا بالقول اهملتقطا (ه) اور عمرو کا قول غلط ہے اور اس حوالہ سے یہ سمجھنا کہ گواہوں کی شرط نہیں ہے، نا ہی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲ ؍ ربیع الاول ، ۱۴۰۶ھ (1) الفتاوى الهندية كتاب الحدود، باب الرابع في الوطى، ج ۲، ص ۱۲۱ ، دار الفکر بيروت (4) فتاوی هندیه ، كتاب الحدود، ج ۲، ص ۱۶۲ ، دار الفکر بیروت (۳) الدر المختار، کتاب النکاح باب المهر، ج ۴، ص ۲۷۵، ۲۶ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) رد المحتار، کتاب النکاح باب المهر، ج ۴، ص ۲۷۶، ۲۷۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۵) الفتاوى الهندية كتاب النكاح ، ج ۱، ص ۳۹۶، دار الفکر بیروت