بالغ و بالغہ پر ولایت مجبرہ نہیں اور نکاح میں ولی کی شرط
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ: ایک عورت ایک لڑکے کو جو بالغ ہے لے جا کر اپنی لڑکی کے ساتھ نکاح پڑھا دیتی ہے جبکہ لڑکے کے ولی میں کوئی موجود نہیں ہوتے ہیں اور وہ لڑکی کسی اور کے ساتھ فرار ہو چکی تھی جس کے ساتھ لڑکی مفرور تھی وہ لڑکا اس نکاح شدہ لڑکے کے دوستوں میں تھا اور ڈائری میں اس کا بھی نام تھا لڑکی کی والدہ نے اس کو لے جا کر بہلا کر کہا کہ اگر تم نکاح کر لو گے تو ہم رکھ لیں گے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں جبکہ لڑکے کا کوئی وارث موجود نہیں نیز اس نکاح سے اس وقت بھی کوئی راضی نہیں تو ایسی صورت میں نکاح ہوا یا نہیں اور نکاح کے سارے گواہان اور وکیل لڑکی کی طرف کے ہیں لڑکے کی طرف سے کوئی موجود نہ تھے ایسی صورت میں از روئے شرع نکاح ہونے یا نہ ہونے کا جواب مطلوب ہے۔ ( نوٹ : مہر دس ہزار روپے کا ہے جبکہ لڑکے کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ نہ کوئی جائیداد ہے) الراقم : غلام محمد یسین ،محلہ شہر کہنہ، بریلی شریف
الجواب: (1) بالغ و بالغه پر ولایت مجبر ہ نہیں تو بالغ کے لئے ولی شرط صحت نفاذ نکاح نہیں والہڈالر کا اگر لڑ کی کا الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۷ ، ۱۵۶ ، دار الكتب العلمية، بيروت نسب و پیشہ میں کفو ہے تو نکاح ہو گیا اور جو مہر باہم قرار پایا وہ بجر دنکاح لازم ہوا اور اگر خلوت صحیحہ ہو چکی ہو تو اس کا لزوم متاکہ ہو گیا۔ اب بعد خلوت صحیحہ اگر فرقت ہوگی تو کل مہر دینا لازم ہوگا ورنہ نصف دینا لازم اور اگر ثبوت شرعی سے ظاہر ہو کہ لڑکا لڑکی کا کفو نہیں یعنی نسب و پیشہ میں لڑکی سے اتنا کمتر ہے کہ اولیاے زن کے لئے باعث عار ہو تو نکاح نہ ہوا جبکہ ولی زن نے اسے غیر کفو جانتے ہوئے نکاح کی اجازت صریحہ نہ دی ہو۔ در مختار میں ہے: ولا تجبر البالغة البكر على النكاح لانقطاع الولاية بالبلوغ () رد المحتار میں ہے: قوله (ولا تجبر البالغة ولا الحر البالغ والمكاتب والمكاتبة ولو صغیرین ح عن القهستانی (۲) (1) (۳) (۴) در مختار میں ہے: ويجب نصفه بطلاق قبل وطئ أو خلوة (۳) اسی میں ہے: وو ويفتي في غیر الكفؤ بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى لفساد الزمان (۲) رد المحتار میں ہے: لا يلزم التصريح بعدم الرضابل السكوت منه لا يكون الرضا (ه) اسی میں ہے: قوله (والمختار للفتوى) قال شمس الائمة وهذا اقرب الى الاحتياط كذا في الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت ردالمحتار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت الدر المختار باب المهر، ج ۵، ص ۲۳۶، ۲۳۵، دار الكتب العلمية، بيروت الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۷ ، دار الكتب العلية بيروت (۵) رد المحتار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت تصحیح العلامة قاسم (1) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ رذی قعدہ ۱۴۰۰ھ