اقل مہر کی مقدار، مہر معجل کی ادائیگی کے بغیر قربت کا حکم اور مفقود الخبر شوہر کی بیوی کا مسئلہ
اقل مہر کی مقدار کیا ہے؟ مہر معجل دیے بغیر جماع کے لئے جبر نہ کرے! مفقود الخبر کا مسئلہ ! بخدمت مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم العالیہ ! السلام علیکم (1) آج کل شادیوں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ پیغمبری مہر باندھتے ہیں یعنی تین روپیہ سوادس آنہ ۔ علمائے دین سے گزارش ہے کہ مہر کم از کم کتنا ہونا چاہئے؟ لکھنے کی زحمت گوارا فرمائیں! (۲) لڑکے کی شادی ہوئی اور لڑکے میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ مہر پہلی رات میں ادا کر دے اور بیوی مہر معاف نہیں کرتی تو میاں بیوی ایک ساتھ ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ (۳) ضروری تحریر یہ ہے کہ نابالغ لڑ کی کی شادی ہوئی تھی اس کے والدین رسم ورواج کے مطابق لڑکی کو اس کے سسرال بھیج دیئے ۱۹۷۵ ء ماہ جون میں رخصت کئے تھے مگر لڑکا نہیں تھا۔ یعنی جب سے شادی ہوئی لڑکا اور لڑکی ایک جگہ نہیں ہوئے ہیں اور بعد رخصت ہونے کے آج تک اس کا شوہر اس کی خبر نہیں لیا اور قریب سال بھر سے پستہ بھی نہیں ہے کہ اس کا شوہر کہاں ہے۔ لڑکی بالغ ہو چکی ہے کب تک یوں اپنی زندگی برباد کرے اور نہ میکے والوں میں اتنی طاقت ہے کہ ہمیشہ اس کی حفاظت کریں۔ غریب آدمی ہے لہذا علمائے دین سے گزارش ہے کہ اب اس لڑکی کو یونہی بیٹھا رہنے دیا جائے یا اب وہ آزاد ہو چکی ہے؟ شادی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ علمائے دین اس کے بارے میں کیا لکھتے ہیں؟ اس ناچیز سے اگر تحریر میں یا جملے میں کسی قسم کی غلطی ہوا سے معاف فرما کر ان فتاوی پر غور فرما کر اس خاکسار تک بھیجیں۔ عین نوازش ہوگی! ناچیز حافظ محمد حنیف رضوی ۱۰ رمئی ۱۹۷۷ء
الجواب: (1) مہر کی اقل مقدار شرعا دس درہم ہے جو چاندی کے انگریزی روپوں سے ۲ ؍ روپے ۱۲ ر آنے ۵/۹ پائی کے برابر ہے اتنی مقدار چاندی یا اس کی قیمت دینا لازم ہوگا۔ واللہ تعالی اعلم (۲) مہر صراحتہ دلالتہ کل یا بعض معجل ہے تو جنگ عورت مقدار منجل بھر مہر نہ پائے وہ شوہر کو جماع اور دوائی جماع سے منع کر سکتی ہے۔ درمختار میں ہے: ( ولها منعه من الوطء) دواعيه (والسفربها ولو بعدو خلوة رضيتها) لان كل وطأة معقود عليها، فتسليم البعض لا يوجب تسليم الباقى (لأخذ ما بين تعجيله ) - الخ ) شوہر پر لازم ہے کہ وہ مقدار معجل جب تک ادا نہ کر دے عورت سے جماع پر جبر نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) صورت مسئولہ میں یہ ضرورت شرعیہ ملجنہ حکم یہ ہے کہ عورت ، حاکم کہ اب اس جگہ کا سب سے بڑا عالم سنی صحیح العقیدہ مرجع فتویٰ ہے ( کما فی الحدیقۃ الندیہ عن فتاوی الامام العتابی رحمۃ اللہ ) کے حضور استغاثہ کرے، بعد ثبوت ۴ سال مدت مقرر کرے گا جسمیں اسے خوب تلاش کیا جائے نہ ملنے پر پھر عورت حاکم کے یہاں حاضر ہو اب حاکم اس کی موت کا حکم کرے گا اور عورت کو چار ماہ دس دن عدت میں بیٹھنے کا حکم کرے گا جس کے بعد عورت مختار ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب مستحب و بہتر یہ ہے کہ شب زفاف میں کچھ مہر دے دے جس قدر استطاعت ہو۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی الدر المختار، کتاب النکاح باب المهر، ج ۴، ص • ۲۹۰، دار الكتب العلمية، بيروت