جہیز کی واپسی، زیورات کی ملکیت اور ازدواجی تعلقات کے شرعی احکام
۱۶ رذی قعده ۱۴۰۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (1) زید نے ہندہ کو طلاق دے دی اور زید مہر بھی ادا کر رہا ہے اور جو زیور زید نے ہندہ کو وقت نکاح دیا تھا وو زید لے سکتا ہے یا نہیں؟ اور جو سامان ہندہ کے باپ نے زید کو دیا تھاوہ ہندہ کا باپ لے سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) عمرو یہ کہتا ہے کہ قرآن پاک میں لکھا ہے کہ جو چیز زید نے ہندہ کو دے دی وہ زید کو لینا حلال نہیں ہے۔ اس پر زید نے یہ کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کچھ اور ہے اس کے بعد پھر عمرو نے زید سے کہا کہ اس آیت شریفہ کو مانتے ہو یا نہیں؟ زید نے اس کا انکار کیا کہ میں اس کو نہیں مانتا ہوں ۔ (۳) زیدیہ کہتا ہے کہ اپنی زوجہ سے حالت مباشرت میں اگر آلہ تناسل دونوں مخصوص مقاموں کے علاوہ کسی اور مقام سے لگایا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اگر آلہ تناسل کو اپنی زوجہ کے دہن میں داخل کیا تو زنانہ ہوا اور اس پر غسل فرض ہوا اگر چہ انزال ہو یا نہ ہو۔ از روئے شریعت مطلع فرما ئیں زید کایہ فعل کیسا ہے؟ مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی؟
الجواب: لمستفتی: عبدالغفور رضوی/معرفت مسرور احمد ساکن محلہ چودھری سرائے ، شہر بدایوں، یوپی (1) جوزیور ہندہ کو بطور ہبہ دیا اگر وہ زیور سے قبل نکاح دیا تھا اور وہ ہنوز اس کے قبضے میں موجود ہے تو زید کو اس زیور کے واپس لینے کا اختیار ہے جبکہ ہندہ راضی ہو یا قاضی شرع واپس کرنے کا حکم کر دے مگر بعد ہبہ واپس لینے سے گنہ گار ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : العائد في هبته كالعائد فی قیئه (۱) دے کر پھیر لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے منہ میں پھر لوٹے۔ اور اگر ہلاک ہو گیا یا ہندہ نے کر دیا یا کسی کو ہبہ کر دیا تو اب اسے حق رجوع نہیں، اور اگر بعد نکاح زید نے اپنے مال سے بنا کر دیا تو بھی حق رجوع نہیں کہ زوجیت مثل قرابت محرمہ مانع رجوع ہے ہاں اگر ہندہ اسے برضاور غبت اپنے شوہر کو ہبہ کردے تو صحیح ہو جائے گا۔ در مختار میں ہے: (وان کره) الرجوع (تحريما) وقيل تنزيها - نهاية (٢) قال الرضا قدس سره والاول الذى جزم به فى المتن و اشار الشارح الى تضعيف خلافه فانه هو الصحيح الذي لا معدل عنه- الخ (۳) (ويمنع الرجوع فيها) حروف (دمع خزقه) (٢) پھر درمختار میں ہے: در مختار میں ہے: والزاى الزوجية وقت الهبة، فلو وهب لامراة ثم نكحها رجع ولو وهب لامراته لا كعکسهای لو وهبت لرجل ثم نكحها رجعت ولو لزوجها والقاف القرابة، فلو وهب لذى رحم محرم منه نسباً لا يرجع والهاء هلاك العين الموهوبة وكذا اذا استهلكت كما هو ظاهر صرح به اصحاب الفتاوى رملى - ملتقطاً) نیز در مختار میں ہے: ”(اتفقا) الواهب والموهوب له على الرجوع في موضع لا يصح رجوعه من المواضع السبعة السابقة- جاز هذا الانفاق منهما جوهرة وفى المجتبى لا تجوز الاقالة في الهبة والصدقة فى المحارم الا بالقبض لانها هبة (1) اور اگر زید نے تصریح کردی تھی کہ یہ زیور بطور عاریت دی یا وہاں کا عرف یہی ہے کہ تملیک و ہبہ کا قصد نہیں کرتے بلکہ پہننے کے لئے دیتے ہیں اور دینے والے ہی کی ملک سمجھتے ہیں تو یہ عاریت ہے جس کی بحالت بقا ہر وقت رجوع جائز و حلال اور بحال ہلاک، قبل افتراق زوجہ کے پاس بے اس کے فعل کے تلف ہو گیا مثلاً چور لے گیا، گر پڑا، دولہن کے پہنے ، برتنے میں ٹوٹا، بگڑا، خراب ہو گیا بشرطیکہ وہیں تک اپنے استعمال میں لاتی ہو جہاں تک کہ پہنے پر عر فا رضامندی سمجھی جاتی ہو تو ان صورتوں میں تاوان نہیں۔ (فان العوارى) لا تضمن بالهلاك من غير تعد كما في التنویر (۲) وو " وفى الهنديه عن العمادية اذا انتقص عين المستعار فى حالة الاستعمال لا يجب الضمان بسبب النقصان اذا استعمله استعمالا معهودا (۳) اور اگر خلاف عرف و عادت بے طوری سے پہننے میں خراب کیا یا بے احتیاطی بے پرواہی ۔ گماد یا یا بعد طلاق اپنے گھر لے آئی اور یہاں کسی طرح تلف ہو گیا تو قیمت دینی پڑے گی کہ وہ زیوراس وقت تک عرفا عاریت تھا جب تک کہ نکاح باقی تھا: دو وفى جامع الفصولين لو كانت العارية مؤقتة فامسكها بعد الوقت مع امكان الردضمن وان لم يستعملها بعد الوقت هو المختارسواء توقتت نصا او دلالة - الخ) (1) اور جو سامان ہندہ کے باپ نے زید کو دیا، اگر وہ چیز اس کے برتنے کے قابل تھی یا نصا اسی کو دی اگر بطور ہبہ دیا اور یہ زید کا قریبی ہے اور محرم ہے تو اسے حق رجوع نہیں ۔ ورنہ حق رجوع بصورت بقا، عین موہوب حاصل مگر گناہ کے ساتھ ۔ اور اگر نصا یا عرفا محض برتنے کو دیا تو وہی حکم جو گز را۔ هذا ما عندی والعلم بالحق عندربی و علمه جل مجده اتم و احکم (۲) زید پر تو بہ وتجدید ایمان لازم اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) روزہ کی حالت میں چھونا یا بوسہ لینا مکروہ تحریمی ہے جبکہ غالب گمان انزال کا ہو ورنہ حرج نہیں اور یہ فعل جو سوال میں مذکور ہوا خصوصاً روزہ کی حالت میں بہت بُرا ہے اور بحالت انزال جبکہ دہن زوجہ سے منی اس کے حلق میں جائے ، دونوں کا روزہ فاسد ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ ذی قعده ۱۳۹۵ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر مصطفی رضا القادری غفر له تحسین رضا غفر له ریاض احمد سیوانی غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی