بغیر ولی حلالہ صحیح نہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاق دی بعد گزر نے عدت کے ایک نیم ملانے اس مطلقہ کا نکاح بکر کے ساتھ رات کو کیا ، مگر وہ عورت اپنے شوہر اول زید کے مکان ہی میں رہی پھر صبح کو بکر سے طلاق لی گئی بعدۂ عدت گزار کر وہی نیم ملا شو ہر اول یعنی زید سے نکاح کر دیا ہے اور بتا تا ہے کہ یہ نکاح جائز ہے،اس کے طرفدار لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ پنچایت کی طرف سے جب یہ نکاح جائز قرار دے دیتے ہیں تو وہ جائز ہی ہے۔ نیم ملا کے بھائی نیم تعلیم پا کر نیم مولوی بنے بیٹھے ہیں وہ بھی ان کے ہمراہ ہیں دونوں ایک ساتھ رہتے ہیں گاؤں کی مسجد میں امامت بھی کرتے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے نکاح مذکور کے ساتھ ۔ (1) نکاح پڑھانے والے پر کیا حکم ہے؟ (۲) پنچایت جو نکاح کو جائز قرار دیتی ہے انکا کیا حکم ہے؟ (۳) نکاح پڑھانے والے کی امامت اور ان کے بھائی نیم مولوی کی امامت کا کیا حکم ہے؟ (۴) یہ معاملہ تقریبا سو سال کا ہے اتنے زمانہ سے الھڑ پین میں سب ہیں میاں بیوی ہمراہ رہتے ہیں پنچایت بھی ان سے خوش ہیں اب ان کو کیا کرنا چاہئے؟ (۵) اتنے زمانے کی نماز جو ان کی امامت میں ادا ہوئی اس کا کیا حکم ہے؟ شرعی حکم سے آگاہ فرما کر ممنون و مشکور فرمائیے گا۔ بینوا توجروا فقط والسلام لمستفتی ،فقیرسعیدالقادری غفرلۂ بید یادھ پور بستر ضلع بالیسر ( اڑیسہ)
الجواب: صورت مسئولہ میں حکم یہ ہے کہ اگر شوہر ثانی نے بغیر ولی کئے ہندہ کو طلاق دے دی تو اس کا نکاح شوہر اول سے صحیح نہ ہوا وہ ہنوز اس کے لئے حرام ہے۔ جن لوگوں کو تحقیق تھی کہ شوہر ثانی نے ہندہ سے وطی نہ کی وہ سب واقف حال، نکاح خواں گواہان و شریکان مجلس گنہگار ہوئے اور وہ پنچایت والے بھی اور وہ نکاح خواں جو اس نکاح کو جائز بتا رہے ہیں ( بر تقدیر صدق سوال ) سخت گنہ گار بلکه مفسد خیال کے ہیں۔ ان سب پر لازم کہ تو بہ صحیحہ کریں ورنہ ان میں جو امام ہیں انہیں امام بنانا جائز نہیں ان کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی۔ غنیہ میں ہے: (1) در مختار میں ہے: (2) لوقدموا فاسقا يأثمون كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها اور ان دونوں مرد و عورت پر فرض ہے کہ فوراً علیحدہ ہو جائیں مگر جب کہ یہ تحقیق ہو کہ شوہر ثانی نے بعد ولی طلاق دی ہے تو نکاح مذکور جائز وصیح ہے۔ اور کسی پر کوئی الزام نہیں ۔ قال تعالى : حَتَّى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ الآية (3) حدیث میں ہے: لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (4) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ رشوال المکرم ۱۳۹۲ھ لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) غنية المستملى شرح منية المصلى، فصل في الامامة، ص ۵۱۳ ، سهیل اکیڈمی (2) الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج ۲، ص ۱۴۷ - ۱۴۸ ، دار الكتب العلمية، بيروت (3) سورة البقرة : ٢٣٠ (4) مشکوۃ المصابیح، کتاب الطلاق، ص ۲۸۴ ، مجلس برکات