بیوہ کے مہر، وراثت میں حصہ اور سسرال کی طرف سے دیے گئے زیورات کی واپسی کے متعلق شرعی حکم
زید ایک دولت مند تاجر کا بیٹا ہے اور والد کی تجارت میں ان کا شریک کار۔ زید کا نکاح اس کے والد نے ایک غریب گھرانے کی دوشیزہ سے ۱۹۶۸ء میں بعوض دین مہر مبلغ گیارہ ہزار روپیہ سکہ رائج الوقت کیا اور اس کی رخصتی ۱۹۷۱ء میں ہوئی تب سے وہ زید کے پاس بحسن و خوبی ایک فرمانبردار، وفادار، خدمت گزار بیوی کی طرح رہتی آرہی ہے۔ زید کو یا اس کے والدین کو اس سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ زید اچانک شکم کے کینسر کا شکار ہو گیا اور چھ ماہ بعد بیچنے کی کوئی امید نہیں ۔ اپنے باپ کی حیثیت کے پیش نظر زید اپنی تیمارداری میں منہمک بیوی سے اپنے دین مہر کی معافی کے لئے نہیں کہتا ہے۔ کیا زید کے گزرجانے پر مہر کی ادائیگی واجب ہو جائے گی ؟ اگر زید کے والد نہ ادا کریں اور بیوہ کومہر معاف کرنے پر مجبور کریں تو اس سے زید کے نکاح کی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟ اور کیا اسلام میں علی الاعلان نکاح کے بعد بقیہ شرط کی پورتی کے بغیر عورت مصرف میں لائی جاسکتی ہے؟ خصوصاً نکاح کے وقت جو دین مہر مقرر ہوتا ہے وہ اس لئے ہوتا ہے کہ موقع پڑنے پر جبراً بھی معاف کرالیا جائے کیا زید سے شادی کرنے پر والدین نے بہو کو جو سونا چاندی زیورات دئے تھے زید کے مرجانے پر وہ اسے بھی بیوہ سے کسی بھی حیلہ سے واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا جائیداد کی وراثت میں بھی بیوہ کا کوئی حق نکاح کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے؟ جبکہ زید کو ابھی بیوہ سے کوئی اولاد نہیں یا زید کے اپنے والد کے سامنے ہی گزر جانے سے بیوہ کا حق زوجیت مجوب ہو جاتا ہے یا نہیں؟ دراصل زید کے والدین اس کی بیوی کو کچھ بھی دینا نہیں چاہتے اور جو زیورات اس کو بیٹے کی زوجیت میں آنے پر دئے تھے ، زید کے مرنے پر اس سے واپس لے کر ہڑپ لینا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا کرنے میں وہ حق بجانب ہوں گے؟ کیا اسلام نے شادی کا مقصد یہی مقرر کیا ہے کہ عورت کو اس سے عقد نکاح کے وقت دین مہر ، نان ونفقہ، زیورات و جائداد کی لالچ دے کر اپنے مصرف میں لایا جائے اور جب بیوہ ہو جائے تو اس کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے ؟ مفصل طور پر اس مسئلے کی وضاحت کسی سفید ورق میں فرما ئیں اور جواب والے پرچے کو یہاں پہنچنے کے پتے پر روانہ کر دیں۔ المستفتی : نجم الہدی ، تاجپور
الجواب: مہر اہم موجبات نکاح سے ہے جو محض عقد صحیح سے ذمہ میں واجب ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ نکاح صحیح کے بعد اگر قبل خلوۃ صحیحہ طلاق ہو جائے تو نصف مہر ادا کرنالازم ہوگا۔ قال تعالى : " وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُم ) اور اگر مہر معجل ہو یا کچھ متجبل اور کچھ مؤجل تو بقدر معجل جب تک نہ لے لے گی شوہر کو اس پر بے اس کی رضا کے کوئی دسترس شرعا نہ ہوگی۔ یہ مہر جو مجر دنکاح میں واجب ہوا ، وطی سے مؤکد اور موت شوہر سے اشد مؤکد ہو جاتا ہے جس کی ادائیگی نقد ورنہ مہر متروکہ میت سے جلد لازم ۔ ادا نہ کریں گے تو سخت گنہ گار عالم جفا کار مستحق عذاب نار ہوں گے بلکہ میت پر بھی وبال کا باعث ہوں گے کہا جاء فی الحدیث والہندیۃ وغیر هما من معتمدات الاسفار یہ۔ جو گزرا نکاح صحیح میں مہر کا حکم تھا نکاح فاسد میں بھی بعد وطی مسمی ( مقرر رشدہ لازم ہوگا ۔ کمافی جمیع الکتب۔ یہیں سے مہر کی اہمیت شرع میں ظاہر ہوتی ہے ۔ مگر بایں ہمہ ہمارے علماء کے نزدیک مہر شروط نکاح سے نہیں کہ بغیر اس کے نکاح نہ ہو۔ ابھی گزرا کہ اگر مہر کا ذکر نہ آئے تب بھی مہر مثل واجب ہوگا یعنی نکاح صحیح ہو جائے گا۔ زیورات کا حکم بھی سینے زیورات جو والدین نے بہو کو دیے تو اگر والدین نے بہو کو خیر مقدم میں دیے یا والدین نے یہ زیورات مال شوہر سے بنا کر نکاح میں بہو کو دیے تو اب ہر گز رجوع بہ حکم ہبہ کی صورت نہیں ہے اگر عاریت کے بطور دیے تھے تو رجوع جائز ہے اسلام میں ہرگز کسی ظلم کی اجازت نہیں۔ جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو میچ نہیں اگر یہ صورتیں ہیں تو رجوع صحیح مگر گنہ گار ہوں گے۔ حدیث میں ہے: العائد فی هبته كالعائد فی قیئه (۲) دیگر ، پھیر لینے والا اس کی طرح ہے جو اپنی قے لوٹاتا ہے۔ رہی جائدادشو ہر تو اس میں ہندہ ضرور حق وارث رکھتی ہے۔ حسب فرائض شرعیہ اسے بھی حصہ دیا جائے گا۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله دار العلوم منظر اسلام محله سوداگران، بریلی شریف،(یوپی) (۲) سورة البقرة -۲۳۷ (۲) الصحيح المسلم، کتاب الهبات، ج ۲، ص ۳۶، مجلس برکات