بد چلن لڑکا نیک لڑکی کا کفو نہیں !
محترمی صاحب ! السلام علیکم گزارش ہے کہ میری شادی تقریبا نو سال قبل مسمی محمد رفیق ولد عبد الشکور محله قندھار ساکن چودھری کے ساتھ ہو گئی تھی شادی کے وقت میری عمر 14 سال کی تھی۔ بالغ ہونے پر مجھے پتہ چلا کہ میرا شوہر چال چلن اور کردار کا ٹھیک نہیں ہے۔ شراب پیتا ہے، زانی ہے، بد فعل ہے، چاقو زنی کے کیس میں ملوث ہے۔ ہر طرح اس کو اسکے ماں باپ اور ماموں اور تمام رشتہ داروں نے سمجھایا کہ وہ اپنے چال چلن ٹھیک کر کے مجھے رکھے اور میرے حقوق کی ادائیگی کرے۔ میرے والدین اور میرے تمام عزیزوں نے بھی اسے پوری طرح سمجھا یا مگر وہ کسی کی بات نہیں مانتا اور دن بدن خراب ہو گیا۔ کہیں ملازمت اور نوکری بھی نہیں کرتا ہے۔ میں چاہتی تھی کہ میرے والدین نے جہاں رشتہ کیا ہے وہ قبول ہومگر اب تمام حالات کے تحت اور اس کے چال چلن کے حساب سے قطعی طور پر میں ناامید ہو چکی ہوں ۔ اور یہ قطعی سچ ہے اگر وہ صیح لائن کا انسان ہوتا تو مجھے اب تک کیوں نہیں لے جاتا۔ میں جوان عمر ہوں اپنی عزت و آبرو کے تحت آپ سے شرع کا حکم مانگتی ہوں اور عرض کرتی ہوں کہ محمد رفیق کے ان بگڑے ہوئے حالات کے تحت میرا نکاح فسخ کردیا جاوے۔ اس قسم کے انسان کے ساتھ کس طرح زندگی گزار سکتی ہوں ؟ پھر مجھے سخت نفرت یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان ہو کر شراب پیتا ہے اس لئے شرعی طور پر مجھے اس کے نکاح سے اور زوجیت سے آزاد کیا جاوے۔ فقط ! نجمہ بیگم بنت عبدالرشید عرف چھوٹا بھائی امام چوک ٹالی والے راجستھان
الجواب: آپ کے والد اگر معروف بسوء اختیار نہیں ۔ ( یعنی کسی نابالغہ کا نکاح اس سے پہلے غیر کفو سے یا مہر میں تین فاحش کے ساتھ نہ کر چکے ہوں ) اور انہوں نے اسے غیر کفو جانتے ہوئے اس سے آپ کا نکاح خود کرد یا تو صیح ولازم ہو گیا اب بے طلاق وانقضائے عدت دوسرا نکاح حرام ہے اور اگر والد کو ہنگام نکاح اسکا غیر کفو ہونا، بدچلن ہونا معلوم نہ تھا بلکہ والد نے اسے کفو گمان کرتے ہوئے اس سے آپ کا نکاح کیا تو اصلاً نکاح منعقد نہ ہوا۔ در مختار میں ہے: لزم النكاح ان كان الولى المزوج ابا أوجد الم يعرف منهماسوءالاختيار-ملتقطاً)(١) اسی میں ہے: ويفتي في غير الكفو بعدم جوازه اصلا وهو المختارللفتوىلفسادالزمان(٢) یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ شوہر ہنگام نکاح بدچلن ہو اور اگر بعد میں بدچلن ہوا تو اس وجہ سے نکاح غیر صحیح نہ ہوگا۔ بلکہ نکاح ہنوز قائم ہے جبکہ نسب یا پیشہ کسی وجہ سے شوہر کا بیوی سے کمتر ہو نا معلوم نہ ہو اور اگر والد نے خود نکاح نہ پڑھایا بلکہ کسی اور نے والد کا وکیل بن کر پڑھایا اور شوہر کفو تھا اور مہر میں غبن فاحش نہ ہوا یعنی مہر بہت زیادہ کم نہ ٹھہرا تو نکاح صحیح ہو گیا مگر بعد بلوغ عورت کو خیار بلوغ ثابت ہوا، اگر عورت نے فوراً نکاح فسخ کر دیا تو فسخ ہو گیا ورنہ لازم ہو گیا اور بے طلاق دوسرا نکاح حرام ہے۔ اور شوہر کفو نہ تھا یا مہر میں غبن فاحش ہوا تو وہی حکم جو پہلے گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۹ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ (1) الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۷۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۶ ۱۵۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت