بچیوں کی پرورش، دین مہر کی ادائیگی اور ایک دینار کی قیمت سے متعلق سوال
ایک کی عمر چار سال ہے دوسری بچی کی عمر دو سال ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری بچی کو میرے حوالے کر دیا جائے میں اپنی بچی کی پرورش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ (۴) طلاق نامہ میں میں نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ میری دونوں بچی کو میرے حوالے بہت جلد کر دو میں اپنی بچیوں کی پرورش کروں گا، میں الگ سے وہاں خرچہ وغیرہ نہیں دے سکوں گا ، اس لئے میری دونوں بچیوں کو جلد سے جلد میرے حوالے کر دو کیونکہ تم خرچ مانگوگی تم کو ہم دے نہیں پائیں گے کیونکہ تم سے میرا تعلق ختم ہو گیا۔اس معاملے کے لئے پھر ہم نے پنچایت میں درخواست کی کہ طلاق شدہ بیوی کا میرے اوپر کسی طرح کا کوئی دعوی نہیں ہے کیونکہ ہم نے دین مہر کے عوض میں اس کے والد کے پاس جو میر اکل سامان امانت تھا، اس کو دید یا، چونکہ پنچایت کے آدمیوں کی بات کو وہ ٹھکرا چکی ہے،اب معاملہ یہ ہے کہ پنچایت ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ تم الگ سے دین مہر ادا کر دو، ہم کہتے ہیں کہ میرے پاس کچھ جائیداد یا نقد روپے نہیں ہے، جو کچھ تھا وہ اسی لڑکی کے والد کے پاس ہے وہ سامان ہمیں دے دو ہم اپنا سامان فروخت کر کے دین مہر ادا کر دیں گے لیکن پنچایت والے بھی وہ سامان نہیں دلواتے جو کہ نقد دین مہر ادا کر دیں۔ آپ ہی حضور فیصلہ بتائیں کہ دین مہر کس طرح ادا کیا جائے؟ وہ لوگ سامان دیتے نہیں ہیں تو ہم کہاں سے نقد دین مہر دیں؟ میرے پاس جو کچھ جائیداد تھی وہ سامان تھا۔ مہربانی فرما کر آپ حضور جلد سے جلد جواب مرحمت فرما ئیں۔ عین نوازش ہوگی۔ اسی فتویٰ پر میرا فیصلہ رُکا ہوا ہے، جلد جواب مرحمت فرمائیں: (۱) دین مہر کس طرح ادا ہو گا ؟ (۲) دین مہر ادا ہوا یا نہیں؟ (۳) بچوں کو میرے حوالے کر دیا جائے ، ہم پرورش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ (۴) ایک دینار کی قیمت کیا ہونی چاہئے؟ تفصیل سے مرحمت فرمائیں، میں انتظار کروں گا، بہت جلد سے جلد جواب سے نوازیں۔ میں آپ کا شکر گزارہوں گا۔ فقط ! المستفتی: محمدحسین عرف نیپالی ہزاری باغ ، بہار ،معرفت حافظ ہاشم القادری کوہ نور فیکٹری، جامع مسجد چوک ہزاری باغ ، بہار
الجواب: (۱) روپوں سے یا اتنی قیمت کے سامان سے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) عورت جب مہر کے روپے یا اتنی قیمت کے سامان پر قبضہ کرلے گی تو مہر ادا ہو جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بچیاں نو سال کی عمر تک ماں کے پاس رہیں گی اور ان کی پرورش کی اجرت شوہر پر لازم ہوگی مگر یہ تنگدست ہو کہ اجرت نہ دے سکتا ہو اور ماں بے اجرت پرورش کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اب ماں کے بعد جسے حق پرورش ہے، بچیاں اُن کو دی جائیں گی جبکہ اس نے ان بچیوں کے غیر محرم سے نکاح نہ کیا ہو اور یہی شرط ماں کے لئے بھی ہے کہ اس نے بچیوں کے غیر محرم سے نکاح نہ کر لیا ہو اور نیز یہ شرط ہے کہ عورت ایسی فاجرہ نہ ہو کہ اسکے فجور کے سبب بچہ پر اندیشہ ہلاک ہو اور لا پرواہ نہ ہو۔ درمختار میں ہے: تثبت للام النسبية ولو كتابية أو مجوسية بعد التفرقة الا ان تكون مرتدة فحتى تسلم لأنها او غير تحبس أو فاجرة فجوراً يضيع الولد به كذكرنا وغناءوسرقةويناحةكما في البحر والنهر بحثا او غیر مامونة بان تخرج كل وقت و تترك الولد ضائعا او متروجة بغیر محرم الصغير او ابت ان تربية مجاناً والحال ان الاب معسر والعمة تقبل ذلک۔الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اقل مہر شرعی دس درہم ہے اور دس درہم دو روپے بارہ آنے تین پائی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم