وہابی بد مذہب سے سنیہ لڑکی کے نکاح کی شرعی حیثیت اور میت کے ایصال ثواب کے لیے عرفہ کا رواج
کے ساتھ نکاح صحیح نہیں ہوا تو زید لڑکی کو رخصت نہیں کر رہا ہے اور بکر طلاق نہیں دے رہا ہے۔ آیا بلاطلاق کے زیدا پنی لڑکی کی شادی کہیں دوسری جگہ کر سکتا ہے کہ نہیں؟ (۲) دیہات میں رواج ہے کہ جو میت شب برات سے پہلے کی ہے اس سال اس میت کے نام پر شب برات سے ایک روز پہلے ہی فاتحہ دلاتے ہیں اور اس کو عرفہ کہتے ہیں آیا کرنا چاہئے یا شب برات کے روز ہی اس کے نام فاتحہ دیں؟ صحیح مذہب جیسا ہو تحریر فرما ئیں ۔ جواب مہر کے ساتھ ہو۔ طالب دعا: محمد حنیف خاں ، محمد امین شاہ جمگڈھوا، پوسٹ ، پھری ضلع گونڈ و(یوپی)
الجواب: (1) وہابی بد مذہب ہیں اور ان کے اکثر اقوال کفریہ ہیں جن کے سبب اکثر فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان پر حکم کفر ہے اور ان میں سے دیوبندی اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صریح تو ہین کے سبب قطعی کا فر و مرتد بے دین ہیں ایسے کہ جو ان کے عقائد کفریہ جان کر انہیں مسلمان سمجھے وہ بھی بلاشبہ کافر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین۔ اور ایسا کوئی وہابی نہیں جو د یو بندیوں کو مسلمان نہ جانتا ہو۔ تو یہ سب مرتد بے دین ہیں اور مرتد کا نکاح عالم میں کسی سے صحیح نہیں۔ در مختار میں ہے: لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدةاحدا من الناس مطلقاً (۱) اور بفرض غلط کوئی وہابی ایسا ہو بھی کہ نہ خود عقائد کفریہ رکھے نہ عقائد کفریہ رکھنے والوں کو مسلمان سمجھے تو بھی بد مذہب سے تو کم نہیں۔ اور بد مذہب بنت سنیہ کا کفو نہیں ، اور غیر کفو سے مذہب مختار میں نکاح باطل ۔ درمختار میں ہے: ويفتي في غير الكفو بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى لفساد الزمان (۲) لہذا اگر واقعی وہ شخص وہابی ثابت ہوا ہو تو نکاح سرے سے منعقد ہی نہ ہوا۔ طلاق کی حاجت (۱) الدر المختار، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر، ج ۴، ص ۳۷۶، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الدر المختار، کتاب النکاح باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۶ ۱۵۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت نکاح صحیح میں ہوتی ہے، فاسد و باطل میں طلاق نہیں ۔ بلکہ متارکہ ہے اور وہ یہ ہے کہ مرد کہے کہ میں نے تجھے چھوڑا یا عورت ہی کہہ دے کہ میں اس سے جدا ہوئی۔واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فاتحہ میں دن کا تعین شرعی نہیں ۔ دونوں طرح اختیار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱/رجب المرجب ۱۳۹۸ھ