دوسگی بہنوں کو رکھنے والے سے تعلقات رکھنا، چندہ لینا وغیرہ کیسا؟
۹ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ : (1) زید کی دو بیویاں ہیں، دونوں کے ساتھ نکاح ہوا ہے اور دونوں بیویاں حقیقی بہنیں آپس میں ہیں۔ جنکا ایک ہی باپ ہے اور ایک ہی ماں ہے۔ ایسی حالت میں زید کو جائز ہے یا نہیں؟ اور جائز نہیں تو کیا حکم ہے؟ اور ایسے لوگوں کے لئے کیا حکم ہے جو لوگ ایسے شخص سے کھانے پینے سے تعلق رکھیں ؟ کیا زید کی آمدنی میں سے مسجد میں لگایا جاسکتا ہے؟ کیا حکم ہے؟ (۲) زید کے یہاں سے اپنے کھانے پینے بات چیت کا سلسلہ کوئی شخص رکھے اور امامت وہی شخص کرے یا کرتا ہو تو اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ (۳) اگر ایسے شخص کے پیچھے کچھ لوگ نماز ادا کر چکے ہیں تو ان لوگوں کی نماز ہوگی یا دوبارہ ادا کی جائے ؟ اگرایے پیچھے کچھ ادا کر ے ہیں تو لوگوں نماز ہونی یا دوبارہ کی جائے؟ المستفتی: جبار حسین بریلی روڈ ، ہلد وانی ضلع نینی تال
الجواب: حامل سوال مظہر کہ بڑی بہن سے نکاح پہلے ہوا تھا اور چھوٹی بہن سے بعد میں زید نے نکاح کیا۔لہذا صورت مسئولہ میں حکم شرع یہ ہے کہ بڑی سے نکاح صحیح ہوا اور چھوٹی سے نکاح فاسد اور زید بے قید سخت گنہگار مستوجب نار مستحق عذاب غضب جبار ہوا۔ اس پر تو بہ لازم ہے اور بیوی کی بہن سے فوراً علیحدگی فرض ہے۔ متارکہ یہ ہے کہ مرد کہے کہ میں تجھ سے جدا ہوا۔ یا عورت ہی کہے کہ میں اس سے جدا ہوئی۔ پھر اگر اس چھوٹی سے زید نے صحبت کی ہے تو جب تک اسے تین حیض نہ آجائیں، بیوی کو ہاتھ لگانا حرام ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ وہ عورت غیر حاملہ ہو اور اسے حیض آتا ہواوراگر حاملہ ہے تو وضع حمل تک ٹھہرے اور اگر اسے صغرسنی یا کبرسنی کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو تین ماہ تک ٹھہر نالا زم ۔ اور زید جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرے اور اس عورت سے علیحدہ نہ ہو، زید سے میل جول واقف حال کو حرام ہے اور اس سے دوستانہ تعلقات رکھنے والا لائق امامت نہیں۔ اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ اور اس کی آمدنی مسجد میں لگانا جائز ہے جبکہ مال حرام ہونا معلوم نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله