سید کا پٹھان کی لڑکی سے نکاح اور کفو کا شرعی حکم
سید نے اپنی مرضی سے پٹھان کی لڑکی سے شادی کر لی ، کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : زید ہندہ کے گھر آتا جاتا تھا۔ زید چاہتا تھا کہ میں ہندہ سے شادی کروں۔ ہندہ قوم کی پٹھان ہے۔ ہندہ کے والد زید کے والد کے دواخانے میں نوکر تھے ۔ کچھ دن ہندہ کے والد نے حلوائی کا بھی کام کیا، زید نے جب شادی کے لئے اپنے گھر والوں سے کہا تو زید کے گھر والوں نے یہ کہ کر منع کر دیا کہ ہندہ کے والد زید کے والد کی دوکان پر نوکر تھے اور ہندہ کے والد کی قوم زید کے گھر والوں نے حلوائی بتائی۔ زید اپنے گھر والوں سے تین ماہ تک شادی کے لئے کہتا رہا مگر زید کے گھر والے شادی کے لئے کسی حال راضی نہ ہوئے ۔ ہندہ کی ماں اور اُس کے دو بھائی شادی کے لئے راضی تھے ہندہ کے بھائی اور ماں نے زید کو کچھالے جا کر ہندہ کے ساتھ نکاح کرا دیا۔ نکاح کرنے کے بعد ہندہ اپنی ماں کے گھر آئی اور زید اپنے گھر آ گیا۔ سات ماہ کے بعد زید کے والد صاحب نے محلہ کے لوگوں کو جمع کر کے زید سے کہا تو
الجواب: کفایت عورتوں کے لئے مرد میں ہونا لازم ہے۔ عورت کی کفایت کا اعتبار نہیں۔ لہذا صورت منقولہ میں زید کا نکاح ہندہ سے ہو گیا اور طلاق نامہ پر جبکہ جبرااکراہ شرعی کی حالت میں دستخط لئے گئے یا جبراً اس سے طلاق لکھائی گئی تو طلاق نہ ہوئی۔ جبکہ اس نے زبان سے طلاق نہ دی ہو، وہ ہندہ زید کی منکوحہ ہے، ایسی صورت میں اس کا نکاح کسی اور سے کرنا جائز نہیں کہا جائیگا بلکہ باطل محض ہوگا اور اس سے جو قربت ہوگی ، خالص زنا ہوگی۔ جبکہ کرنے والا جانتا ہو کہ ہندہ غیر کی منکوحہ ہے ورنہ فاسد ہوگا اور بعد علم متارکہ فرض ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۳۰/ جمادی الآخر ۱۳۹۶ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی