کفائت میں شرافت و دنائت کا لحاظ اور شادی بیاہ کی مختلف رسومات کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہمارے علاقہ میں قومیت کی برتری کا بہت زور شور ہے جیسا کہ فقیری میں کئی ایک قومیں ہیں۔ مثلاً آزاد خاندان، مراد یہ خاندان، قلندری خاندان۔ اور یہ بالترتیب بزرگان دین جیسے کہ بڑے پیر صاحب، سید بدیع الدین شاہ قطب الدین اور حضرت بوعلی شاہ قلند ر رحمتہ اللہ علیہ سے وابستہ ہیں۔ آزاد خاندان کے سلسلہ کے لوگ تو مراد یہ خاندان کے لوگوں سے رشتہ جوڑ نا چاہتے ہیں لیکن وہ لوگ نعوذ باللہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم مسجد کی اینٹ نالا میں نہیں لگانا چاہتے ہیں۔ ان باتوں سے ہم لوگوں میں بیاہ شادی میں بڑی گڑ بڑی پھیلی ہوئی ہے۔ کیا قرآن کریم میں قوم پرستی کا کہیں حوالہ ہے؟ یا کیا ہے؟ کیا مذہب اسلام میں کوئی چھوٹا بڑا ہے؟ دیے گئے نام بزرگان دین میں کن حضرات کا مرتبہ اعلیٰ ہے اور ان گدیوں سے وابستہ ہونے والے لوگ کون بڑے کون چھوٹے ہیں؟ مسئلہ: بیاہ شادی کے موقع پر مسلمانوں کو روا ہے کہ دولہا دولہن کے کنگن باندھنا دولہا کے مہندی لگانا لڑوا گاڑ نا ( ایک ڈالی آم کی توڑ کر صحن میں گھرس دیتے ہیں) اور شادی کے موقع پر ڈھول بجانا ؟ کیا یہ سب روایت ہی ہے؟
الجواب: عند اللہ شرف وفضیلت کا مدار تقویٰ پر ہے، جو جتنا متقی ہے، اللہ کے نزدیک وہ اتنا ہی باعزت ہے، اگر چہ عر فاوہ کم قوم گنا جاتا ہو۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (1) مگر شرع مطہر نے قطع نزاع ورفع فساد کے لئے دربارہ نکاح عرفی شرافت کا اعتبار فرمایا اور کفاءت کولزوم نکاح یا بر مذهب مختار الفتوی صحت نکاح کی شرط فرما دیا۔ در مختار میں ہے: " ويفتي في غير الكفو بعدم جوازه اصلا وهو المختار للفتوى الفساد الزمان لہذا عرفانسب و پیشہ میں جو ایسا کمتر ہو کہ اولیائے زن کے لئے باعث عار ہو، اس سے بے اجازت صریحہ ولی نکاح اصلاً منعقد ہی نہ ہوگا۔ مگر کسی سلسلہ صحیح کا مرید ہونا عرفاً نکاح میں کچھ خلل انداز نہیں کہ سلاسل اولیاء میں باہم شرافت و دنائت کا تفاوت نہیں۔ والعیاذ باللہ۔ مگر جولوگ دوسرے سلسلہ سے بے وجہ شرعی تعصب رکھتے ہیں اور اسے کمتر سمجھتے ہیں سخت جاہل ہیں اور اپنے اس خیال سے تو ہین اولیاء کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور سوال میں قادری سلسلہ کے مریدین کے بابت جو فقرہ لکھا ہے، بہت سخت ہے اور سیدنا غوث پاک کی توہین کا صریح پہلو رکھتا ہے جس سے تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان وتجدید نکاح بھی کریں۔ ردالمحتار میں ہے: ومافيه خلاف يومربالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح واللہ تعالیٰ اعلم سید ناغوث پاک کا مرتبہ سب سے افضل ہے۔ دولہا کونگن پہنانا اور مہندی لگانا اور ڈھول بجانا منع ہے۔ اور آم کی ڈالی گاڑنا بھی عیب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح حسین رضا غفرا ۱۳ / جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ