بد اخلاق بیوی کو طلاق دینے کا طریقہ اور والد کی اجازت کے بغیر نابالغہ کے نکاح کی شرعی حیثیت
اندر میرے اوپر میری بیوی اور میرے سسرال والوں نے جھوٹا مقدمہ بھی دائر کیا چھ سال گزارنے کی بعد پھر خود بخو دمیرے پاس چلی آئی اور میں نے رکھ لیا لیکن یہ عورت ہمیشہ سے میرے ساتھ برا برتاؤ کرتی ہے مجھ سے میرے والدین مرحوم کو گالی گلوج دینا بغیر میری مرضی کے غلط کام کرنا بے حجابانہ باہر گھومنا سنیما دیکھنا، جھوٹ بولنا، غلط الزام لگانا وغیرہ وغیرہ اس عورت کا شیوہ بن چکا ہے جس کام سے منع کرتا ہوں، ان باتوں کا خیال نہیں کرتی اور اپنی من مانی کرتی ہے یہ جوسترہ اٹھارہ سال میں نے اس عورت کے ساتھ گزارے وہ صرف اس لئے کہ یہ اب سنبھلے گی تب سنبھلے گی لیکن اب تک یہ عورت نہیں سنبھل سکی اور اب برداشت سے باہر ہو چکا ہے تو کیا شرعا ایسی بیوی کو طلاق مغلظہ دینا درست ہے یا نہیں؟ اور ان صورتوں میں دین مہر دینا جائز ہے کہ نہیں؟ (۲) یہی عورت یعنی میری بیوی نے بغیر میری مرضی کے لڑکی کا نکاح کر دیا جبکہ میں نے اجازت نہیں دی لڑ کی اس وقت نیم بالغ تھی لڑکی تعلیم یافتہ ہے اور لڑکا جاہل۔لڑکی کے نکاح کا پیغام لانے والے لڑکی کا نانا ہے جو سود کھاتا ہے۔ اس نکاح کے گواہان شرع کے پابند نہیں۔ بعض کی داڑھی نہیں نماز نہیں پڑھتے ، تاڑی وغیر ہ بھی پیتے ہیں تو کیا ان صورتوں میں شرعاً نکاح درست ہوا یا نہیں ؟ لڑکی کی رخصتی ابھی نہیں ہوئی ہے تحریر فرمائیں۔
الجواب: (۱) یکبارگی تین طلاق دینا خلاف شرع اور گناہ ہے۔ آپ ایک طلاق رجعی یا بائن ایسے طہر میں جس میں جماع نہ کیا ہو، دے دیں کہ یہی طلاق سنت ہے اور مہر ہر حال میں دینالازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صورت مسئولہ میں اس نابالغہ کا نکاح آپ کی اجازت پر موقوف ہوا۔ اگر آپ نے جائز نہ کیا تو جائز نہ ہوالڑ کی کا نکاح جس سے جائز ہو، کر دیا جائے یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ وہ لڑکا جس سے نکاح کیا گیا، لڑکی کا نسب و پیشہ اور چال چلن میں ہمسر ہو اور مہر میں فاحش کمی نہ ہوئی ہوورنہ نکاح اصلاً صحیح نہ ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ