بالغ کا نکاح جبراً کسی لڑکی سے کرنے والے گنہ گار ہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کے دولڑ کے ہیں ایک تو شادی شدہ اور چھوٹے لڑکے کی عمر کوئی پندرہ سال کی ہے اور لڑ کے کی ماں کا انتقال کافی عرصہ گزر گیا، ہو گیا تھا۔ اب ددوسری ماں موجود ہے اور زید کا انتقال کوئی دوسال کے قریب ہوئے، ہو گیا تھا۔ لڑکے کے ماموں کی لڑکی کافی عرصہ سے جوان ہے اور لڑکے سے قد بھی بہت دراز ہے ، لڑکا کاندھوں تک بھی نہیں ہے۔ شادی کی بات زید کے سامنے بھی ہوئی تھی تو زید نے مرتے وقت تک منع کر دیا تھا کہ میرے لڑکے کی شادی وہاں مت کرنا ۔ اب لڑکے کی خالہ اور گھر والے لڑکے پر کافی زور ڈال رہے ہیں کہ شادی اسی لڑکی کے ساتھ کرنی ہے۔ لڑکا اس بات پر بالکل راضی نہیں ہے اور منع کرتا ہے کہ مجھ کو اپنی شادی اس لڑکی سے ہر گز نہیں کرنی ہے اور بہت فکر مند ہے، پریشان ہے، مالدار کالڑکا ہے لیکن والدین کا سایہ اُٹھ جانے کی وجہ سے پریشان ہے۔ لہذا اس لڑکے کی مرضی کے بغیر اس لڑکی سے رشتہ داروں کا شادی کرانا جائز ہے یا نہیں؟ اور ان رشتہ داروں پر شریعت کا کیا حکم ہے جولڑ کے پر اس کی مرضی کے بغیر ڈانٹ ڈپٹ ، زجر و توبیخ کر کے اس جگہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں جس جگہ کو لڑکا تیار نہیں ہے۔ بے چارہ ہر وقت مغموم رہتا ہے کہ آج میرے والد باحیات ہوتے تو یہ بات ہرگز نہ ہوتی ۔ فقط السائل : محمد رفیق احمد
فی الواقع جو لوگ بے وجہ شرعی اس لڑکے کو زجر و توبیخ کرتے ہیں ،سخت گنہگار، مستوجب عذاب نار حق العبد وحق اللہ میں گرفتار ہیں، تو بہ لازم ہے۔ بے رضا اس لڑکے کے یہ عقد ہرگز نہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰/ذوالحجہ ۱۳۹۱ھ/۱۶/فروری ۱۹۷۲ء