زید کی طرف سے اپنی بیوی ہندہ کو دی گئی طلاق اور عمر کی فریب کاری کا معاملہ
اہل خاندان کو بتایا کہ میری بیوی عمر کے گھر ہے اور عمر اس اثناء میں زید کے گھر اور اہل خاندان کے یہاں برابر آتا جاتا رہا۔ مگر عمر نے کسی کو نہیں بتایا کہ ہندہ زید کی بیوی میرے گھر ہے۔ جس روز زید کو معلوم ہوا تھا کہ ہندہ میری بیوی عمر کے گھر ہے اسی دن عمر شام کو زید اور زید کی بیوی ہندہ کا آمنا سامنا کرایا اور بات چیت شروع ہوئی مگر جھگڑا اور تیز ہوا نتیجہ یہ ہوا کہ زید نے رات دو بجے ہندہ کو طلاق دے دی اور زید علی الصباح عمر کے گھر سے چلا تو عمر زید کے ساتھ ساتھ آیا اور زید کی بہت خوشامد کرتا رہا کہ تم کسی سے مت کہنا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی مگر زید بہت غصے میں تھا اور زید نے چلا کر کہا کہ میں اپنے گھر والوں کو نہیں بتاؤں گا میں اپنے بہنوئی اور بہنوں اور بھائیوں کو نہیں بتاؤں گا اور زید نے اپنے گھر آکر اپنے اہل خاندان کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو لوگوں نے اس سے پوچھا تو نے کتنی بار طلاق کہا ہے ؟ تو زید نے صاف صاف کہا کہ میں نے چار یا پانچ بار کہا جس پر زید کے گھر والوں نے عمر کو لعنتیں کیں جس پر عمر شرمندہ ہوا اور غصے میں اپنے گھر چلا گیا اور عمر اور عمر کی بیوی نے کہا کہ طلاق نہیں ہوئی کیونکہ زید نے طلاق آنگن میں دی تھی اور اس کی بیوی اندر تھی اس نے سنا نہیں ۔ جب ہندہ کی ماں صبح ہندہ کو لینے عمر کے گھر پہونچی تو ہندہ نے اپنی ماں سے کہا کہ مجھے رات طلاق دی تھی تو ہندہ کی ماں نے عمر کے گھر خوب شور مچایا، روئی، بیٹی اور زید کو برا بھلا کہا اور ہندہ کو اپنے گھر لے گئی۔ سوال یہ ہے کہ جب ہندہ طلاق نہیں سنی تھی تو صبح کو اپنی ماں کو کیسے بتلایا اور عمر بعد میں اپنی شرمندگی کا قائل ہوا اور اپنے کالے کرتوت اور کالے کارنامے کومٹانے کے لئے زید کو ورغلانا شروع کر دیا کیونکہ عمر پر ہر طرف سے لعنتیں ہونے لگیں کہ تو نے ہی طلاق دلوائی ہے پھر عمر نے اپنے فعل بد چھپانے کے لئے اصلی واقعات اور حقیقت تحریر نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ایک فتویٰ اپنے حسب منشا تحریر کر کے جواب حاصل کر لیا ظاہر ہے کہ جیسی تحریر ہوگی ویسا جواب بھی ہو گا اب عمر اس قول کی بنا پر کہتا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی اور عمر حاصل کردہ فتویٰ لے کر ہندہ کے باپ کے یہاں گیا کہ میں یہ فتویٰ لے آیا ہوں طلاق نہیں ہوئی اور میں قرآن شریف کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ طلاق نہیں ہوئی۔ ہندہ نے باپ کے فتویٰ دیکھنے اور عمر کے قرآن شریف کی قسم کھانے پر اعتبار کر لیا پھر ہندہ کے باپ نے عمر سے کہا کہ تم زید کو اور زید کے کسی گھر والے کو لے آؤ تو میں ہندہ کو زید کے ہمراہ بھیج دوں گا۔ اس پر زید کا گھر والا کوئی جانے کو تیار نہیں
الجواب: المستفتی: غلام صابر، محله ذخیره، بریلی اگر یہ واقعہ ہے کہ زید نے اپنے خاندان والوں سے اقرار کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو چار پانچ بار طلاق دی ہے جیسا کہ حامل سوال کا بیان ہے تو زید کی بیوی پر تین طلاقیں ثابت ہوگئیں جبکہ یہ لوگ لائق شہادت ہوں، اب زید کو حلال نہیں کہ وہ ہندہ کو بیوی کے طور پر اپنے ساتھ رکھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله