طلاق میں عورت کی طرف اضافت کی ضرورت اور قرینہ سے وقوعِ طلاق کا حکم
شریعت سے مطلع فرمائیے! المستفتی: رحمت جان گڑھی، بریلی
الجواب: طلاق میں عورت کی طرف اضافت ضروری ہے۔ خواہ صراحۃ اس کے شوہر کے کلام میں ہو یا مخاطب کے کلام میں ہو۔ یا نیت میں ہو۔ ردالمحتار میں ہے: ولا يلزم كون الاضافة صريحة (1) اگر اضافت موجود نہ ہو تو قرینہ قائم ہونے پر حکم طلاق ہوگا۔ صورت مسئولہ میں ہندہ کے بھائی نے طلاق مانگی جس پر اس نے طلاق طلاق طلاق کہا۔ اگر چہ اضافت دونوں کے کلام میں موجود نہیں ہے۔ مگر ہندہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ اگر تم سے نہیں رکھی جاتی ہے تو فیصلہ کر دو، قرینہ ہے کہ زید نے اپنی بیوی ہی کو طلاق دی۔ لہذا اگر ہندہ محلہ یا موطوہ ہے تو اس پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔ بے حلالہ زید سے نکاح صحیح نہیں۔ ہاں اگر زید حلفیہ یہ کہہ دے کہ میں نے طلاق کی نیت نہیں کی تو طلاق نہ ہوگی۔ اعلیٰ حضرت اضافۃ الطلاق“ میں فرماتے ہیں: اما اذ خلا عنها بوجوهها الثلاثة فح لا بد من وجودها في النية فان نوى وقع والا لا وهذا ما قال فى الهندية عن المحيط لا يقع في جنس الاضافة اذا لم ينو لعدم الاضافة اليها-الخ_هذا فيما بينه وبين ربه تعالی۔ اما قضاء فتنقسم هذا الصورة الى قسمين: الاول: ان توجد ههنا قرينة يستأنس بها على تحقق النية ويكون هو الاظهر في المقام فح يحكم بالوقوع ما لم يقل انى لم اردها فان قاله فلا يصدق الا بالیمین (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۳ / رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ