روزہ میں قلیل غذا کھانے، مخرج دھونے، رمضان میں شیطانوں کے قید ہونے اور لعاب دہن کے متعلق سوالات
کرم طراز قبلہ حضرت مخدومی شاہ مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته بعد عرض سلام و قدمبوسی تعظیماً عرض ہے کہ مندرجہ ذیل مسائل کے جواب باصواب عنایہ فرما کر بندوں کی رہبری و ہدایت فرمائیں : (1) روزہ رکھا ہوا آدمی عمداً ایک چنا یا اس سے کم ایک دانہ گیہوں ٹوکری سے نکال کر کھایا یا اس سے کم مثلاً ایک تل یا رائی کا دانہ تھیلے سے نکال کر کھایا۔ اتنی چھوٹی قلیل غذا سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟ (۲) آبدست کے لئے بہتے ہوئے نہر یا ندی کے پانی میں بیٹھ کر خوب کھل کر مخرج کو دھویا، روزہ فاسد ہوگا یا مکروہ ؟ اگر مگر وہ توکون سا مکروہ؟ (۳) زید کہتا ہے کہ رمضان المبارک میں شیاطین زنجیروں میں بند کیے جاتے ہیں تو بندہ ماہ رمضان المبارک میں خطا و گناہ کیوں کرتا ہے؟ اور مسلم وغیرہ کیوں ہوتا ہے؟ (۴) حالت روزہ میں کسی کو لعاب (تھوک) بہت نکلتا ہے اور کبھی پڑھتے پڑھتے منہ کا تھوک ہونٹوں کے ظاہری حصہ تک آجاتا ہے اس کے نگل جانے کا کیا حکم ہے؟ (۵) مولانا زاہد القادری دہلوی سنی ہیں یا وہابی؟ المستفتی: محمد عبد الغنی سنی حنفی رضوی کارپینٹر ،مقبول نگر، ہانگل شریف (کرناٹک)
الجواب: (1) عمداً کھانا پینا بلاشبہہ روزہ کو فاسد کرتا ہے۔ در مختار میں ہے: ”وان جامع المكلف آدمیا مشتهی او اكل او شرب غذاءً او دواءً عمداً قضی و کفر (1) رد المحتار میں ہے: قوله ( ما يتغذى به) ای ما من شانه ذلك كالحنطة والخبز واللحم وانما عد الماء منه وهو لا يغذو لبساطته لانه معين للغذاء (۲) اور کفارہ بھی واجب ہو گا جبکہ ایسی چیز کھائے جو بطور غذا یا دوا استعمال ہوتی ہو اور مصلح بدن ہو كما مر آنفا من الدر المختار اور مقدار یہاں مطلق رکھی جس کا صریح مفاد یہ ہے کہ عمداً کچھ کھانا اگر چہ چنے بھر سے کم ہو، مفسد صوم ہے لا جرم اسی در مختار میں تصریح فرمائی: لو اكل لحما بين اسنانه ان مثل حمصة فاكثر قضى فقط و في اقل منها لا يفطر الا اذا اخرجه من فمه فاکله (۳) یہیں سے تل وغیرہ کا حکم ظاہر اور وہ یہ کہ تل وغیرہ منہ میں رکھ کے اگر بے چہائے نگل جائے تو روزہ ضرور فاسد ہو گا اور کفارہ بھی لازم ہوگا۔ اسی درمختار میں ہے: واكل مثل سمسمة من خارج يقطع ويكفر في الاصح () اور چنے بھر کی قید اس چیز کے لئے ہے جو دانتوں کے درمیان ہو یا منہ کے اندر ہوکما ہوظاہرمن ما تلونا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) روزہ دار کو استنجا میں مبالغہ مکروہ ہے کہ مظنہ وصول آب بمقام حقنہ ہے اور حقنہ کے مقام تک پانی پہنچنا مفسد صوم ہے تو مبالغہ کی صورت میں روزہ کو فساد کے لئے معرض کرنا ہے لہذا اس میں کراہت تحریمی ہوگی ۔ جس طرح بوس و کنار جبکہ انزال کا اندیشہ ہو، مکروہ تحریمی ہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے: و يبالغ في التنظيف حتى يقطع الرائحة الكريهة وفي ارخاء المقعدة ان لم يكن صائما ) اور اس صورت میں اگر پانی موضع حقنہ تک پہنچ گیا تو روزہ جاتا رہا۔ طحطاوی میں ہے: قوله حفظا للصوم عن الفساد وانما يفسد اذا وصل الماء الى موضع الحقنة‘‘ (۲) یہاں سے صورت مسئولہ کا جواب ظاہر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) گناہ نفس عمارہ کے سبب کرتا ہے اور احتلام بہ سبب شہوت ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ایسا کرنے سے روزہ نہیں جاتا۔ مراقی الفلاح میں ہے: ,, وفى الخانية ترطب شفتاه ببزاقه عند الكلام و نحوه فابتلعه لا يفسد صومه (۳) اور یہی صحیح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) مدعی سنیت ہیں وبس ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۴ رشوال المکرم ۱۴۰۳ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (۱) مراقی الفلاح شرح نور الايضاح كتاب الطهارة، فصل في الاستنجاء ص ۴۲، مكتبة المدينة (۲) حاشية الطحطاوي على المراقى كتاب الطهارة، فصل في الاستنجاء ص ۴۸ دار الكتب العلمية، بيروت (۳) ۱۶۱ مراقی الفلاح مع الطحطاوی، باب فی بیان ما لا يفسد الصوم، ص ۶۶۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت