۹ ذی الحجہ کو ۱۰ ذی الحجہ سمجھ کر نماز اور قربانی کر لینے کا حکم
۹ رذی الحجہ کو ۱۰ رذی الحجہ مان کر نماز و قربانی کر لی تو کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: ہمارے یہاں ۲۹ رذی قعدۃ الحرام جمعرات کو ابر کے سبب سے چاند نظر نہیں آیا۔ دوسرے دن جمعہ کو بوقت مغرب چاند دکھائی دیا، جمعہ کا چاند دیکھ کر بعض لوگوں نے یہ اندازہ لگایا کہ چاند جمعرات کا ہی ہونا چاہئے مگر دور و نزدیک کہیں سے جمعرات کے چاند ہونے کی شہادت نہیں گزری لہذا اصول شرع کے مطابق مہینہ کے تیس دن کی گنتی پوری کی گئی اور سنیچر کو ذی الحجہ کی پہلی تاریخ مقرر ہوئی ، اسی اعتبار سے
الجواب:شریعت نے مہینہ کے ختم میں رویت ہلال یا مہینہ کی گنتی پورے ہونے میں مدار کا رکھا ہے۔حدیث میں ہے: ” الشهر هكذا وهكذا وهكذا وعقد الابهام في الثالثة والشهر هكذا وهكذا یعنی تمام ثلثین (1)مہینہ ۲۹ کا ہوتا ہے یا تیس دن کا ، چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو پھر اگر چاند نظرنہ آئے تو تیس کی گنتی پوری کرو اور رویت کا ثبوت شہادت شرعیہ یا استفاضہ خبر پر موقوف ہے جس طرح ہر دعویٰ کا ثبوت بدینہ شرعیہ پر موقوف ہے اسی طرح رویت بینہ شرعیہ سے ثابت ہوگا۔(1) الصحيح لمسلم، کتاب الصیام، باب وجوب صوم رمضان لروية ،الهلال، ج ۱، ص ۳۴۷، مجلس برکاتدر مختار میں ہے : ” فیلزم اهل المشرق برؤية اهل المغرب اذا ثبت عندهم رؤية اولئک ،،بطريق موجب (1)اس پر رد المحتار میں ہے:(قوله بطريق موجب) كان يتحمل اثنان الشهادة او يشهدا على حكم القاضی او يستفيض الخبر بخلاف ما اذا اخبران اهل بلدة كذار أوه فانه حكاية - اه (1)لہذا جبکہ گواہان شرعی نے نہ خود رویت کی شہادت دی نہ قاضی شرع کے مجلس حکم میں حکم رویت دینے کی شہادت دی ، نہ کسی اور جگہ سے متعدد جماعتوں نے خود چاند دیکھنا بیان کیا کہ استفاضہ خبر ہو جا تا تو محض خبر پر اتوار کے دن عید کر لینا جائز نہ تھا، اس دن عید کی نماز نہ ہوئی اور اس دن کی قربانی بھی صحیح نہ ہوئی جن لوگوں نے گنتی پوری کرنے کے بعد دوشنبہ کو عید کی انہوں نے حکم شرع پر عمل کیا اوروں نے خلاف شرع کیا، پیر کو ۰ ارذی الحجہ تھی تو بدھ کے دن مغرب سے پہلے تک قربانی درست ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله۲۷ رذی الحجہ ۱۴۱۱ھ/۳۰/جون ۱۹۹۱ء