ثبوتِ رویتِ ہلال کے شرعی طریقوں اور ریڈیو و جدید آلات کی شہادت میں حیثیت کا بیان
کچھ لوگوں کو بہکا کر کے ایک اپنی پارٹی بنالیے ہیں اور ان لوگوں سے چرم قربانی لے رہے ہیں۔ کیا ان کو ایسا کرنا جائز ہے؟ اور کبھی کبھی نئے پیش امام کے نہیں رہنے پر بغیر مقتدی کے کہے امامت کرنے لگتے ہیں ۔ کیا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟ (۳) زید کے دوستوں نے زید سے پوچھا کہ سنا ہے کہ تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو زید نے صاف کہا کئی دوستوں کے سامنے کہ ہم نے ڈائریکٹ دے دی ،طلاق کا کوئی لفظ زید نے نہیں نکالا اور نہ کبھی کہا گیا۔ اس حالت میں زید کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی؟ از راہ کرم مسئلہ سے مطلع فرمائیں۔ فقط والسلام ! المستفتى : محمد امام الدین عزیزی، کیراف محمداسلام الدین
ثبوت رویت کے لئے شہادت شرعیہ یا استفاضہ خبر درکار ہے، ریڈیو، تار، ٹیلیفون، خط، جنتری وغیرہ اس باب میں بے کار۔ تنویر و در مختار، دیو بندیوں اور سنیوں دونوں کی مستند کتاب ہے، ان میں ہے: ”فیلزم اھل المشرق برؤية اهل المغرب اذا ثبت عندهم رؤية اولئك بطريق موجب (۱) رد المحتار میں ہے: (قوله بطريق موجب) كان يتحمل اثنان الشهادة او يشهدا على حكم القاضي او يستفيض الخبر بخلاف ما اذا اخبران اهل بلدة كذار أوه فانه حكاية - اه (1) اور شہادت بے حضور شاہد امور دنیا میں بھی ہرگز مقبول نہیں شرعاً وعرفاً شہادت میں حضور شرط ہے۔ اسی تنویر و در میں ہے: (1) (4) ولا يشهد احد بما لم يعاينه بالاجماع (۳) نہ پردہ کی آڑ سے شاہد کا کلام سن لینا کافی ۔ احکام القرآن رازی میں ہے: فغير جائز قبول شهادته على الصوت نیز ہندیہ میں ہے: النغمة تشبه النغمة اور خط اور زیادہ بے اعتبار۔ ہدایہ میں ہے: الخط يشبه الخط فلم يحصل العلم دیو بندی مولویوں کا کہنا ان کی بابت محض غلط ہے بلکہ انصاف شرط ہے درحقیقت انہی کی اصطلاح مخترع در بدعت کے بموجب انہی کے پیچھے ناجائز کہ وہ ان چیزوں کا اعتبار کر کے اپنے منہ آپ بدعتی ہیں۔ کیا بتا سکتے ہیں کہ قرون ثلثہ میں سے کس قرن میں تار، خط یا آواز پس پردہ کا اعتبار درباره شہادت کیا گیا ہے؟ یا علی الاقل حکم ہوا ہے کہ اس کا اعتبار کرو؟ ہیہات ہرگز نہیں ! تو خود بدعتی ہوئے اور بدعتی بدترین نالائق امامت ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وه شخص سخت گنہ گار ہے، اسے مسجد کی آمدنی کھانا ہرگز جائز نہیں جبکہ وہ مسجد کی خدمت انجام نہیں دیتا۔ اور اگر وہ صاحب نصاب نہیں ہے اور قدرت کسب رکھتا ہے تو اسے سوال کرنا اس رقم کا ناروا ہے اور اگر کوئی اسے بے سوال کے دے دے تو ملزم نہیں، بے سوال دے دیتے ہیں تو اس پر الزام نہیں۔ بے اجازت قوم با وصف فسق اس کا امام بن جانا سخت گناہ کا کام ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے پر لعنت کی وعید سنائی۔ اسے امام بنانا نا جائز ہے، وہ بھی تو بہ کرے اور قوم بھی تو بہ کر لے، اگر مجبور و خائف فتنہ نہ ہو۔ اور اعادہ نمازوں کا لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ظاہر اس کے جواب سے یہی ہے کہ اس نے طلاق دے دی ہے۔ فان السوال معاد فی الجواب۔ (1) احكام القرآن للجصاص، باب الشهود، ص ۲۲۷ ، دار احیاء التراث العربی، بیروت (۲) الفتاوى الهنديه كتاب الشهادة الباب الثانى فى تحمل الشهادة ، ج ۳، ص ۳۸۸، دار الفکر، بیروت (۳) الهداية ،۲ ص ۱۴۲ ، كتاب الشهادة مجلس بركات لہذا طلاق ہوگئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ یکم محرم الحرام ۱۳۹۶ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفرلہ