سیلون (سری لنکا) میں ریڈیو اور ٹیلیفون کے ذریعے چاند کی خبر اور ہلال کمیٹی کے اعلانات کا شرعی حکم
سیلون کی کولمبو ہلال کمیٹی نے ملک کے تمام مساجد کے خطیبوں سے اپیل کی ہے کہ جس مقام پر چاند نظر آئے ، وہاں کے خطیب صاحب شرعی شہادت لے کر چاند ہونے کا اعلان کریں اور کولمبو ہلال کمیٹی کو ٹیلیفون کے ذریعہ خبر کریں تا کہ پورے ملک کے لئے ریڈیو سے چاند کا اعلان نافذ کیا جائے ، یہاں پر غور کرنے کا یہ نکتہ ہے کہ جو ہلال کمیٹی شرعی شہادت لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی تھی۔ اس نے ملک کے سارے خطیبوں کو چاند کا اعلان کرنے کے لئے شرعی شہادت لینا ضروری قرار دیا ہے اور اس پر چار پانچ جگہ جہاں پر چاند نظر آ جائے مندرجہ بالا تفصیل پر شریعت کی روشنی میں جانچ پڑتال کر کے مدل جواب مرحمت فرمائیں اور ساتھ ہی ساتھ ذیل کے مسائل کا حل بھی درج فرما کر ممنون فرمائیں۔ (1) کولمبو ہلال کمیٹی چاند دیکھ کر یا شرعی شہادت لے کر چاند ہونے کا اعلان کرے تو وہ اعلان تمام سیلون کے لئے ریڈیو کے ذریعہ نافذ کیا جا سکتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو سارے ملک کے لئے چاند ہونے کا اعلان نافذ کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہوگا ؟ (۲) ملک کے ایک مقام پر چاند نظر آئے تو وہاں کے خطیب صاحب شرعی شہادت لے کر چاند ہونے کا اعلان کریں تو کیا ملک کے دوسرے مقامات پر خبر کرنے کے لئے ٹیلیفون اور ریڈیو کا اعلان کافی ہوگا ؟ اگر جواب نفی میں ہو تو اعلان کا شرعی طریقہ کیا ہوگا ؟ (۳) اگر کسی مقام پر نا کافی اور نامعتبر شہادت پر چاند کا اعلان کیا جائے اور عید کی نماز وغیرہ پڑھی جائے تو کون کون گنہ گار تسلیم کیے جائیں گے؟ اور ان کے گناہ کی تلافی کی شرعی صورت کیا ہوگی؟ (۴) ایک مقام پر چاند ہو تو اس کا اعلان کتنے میل کے فاصلہ تک بغیر شرعی شہادت کے مانا جائے گا؟ (۵) اگر اکثریت چاند کے ثبوت کے لوازمات کو نظر انداز کرتی ہو پھر بھی جماعت کا ساتھ چھوڑنے والا اللہ تعالیٰ کی وعید کا سزاوار ہوگا ؟ المستفتی: حاجی محمد شفیع یوسف کیراف مصر برنی ٹریٹنگ کولمبو
الجواب: (۲۰۱) درباره بلال ریڈیو خواہ ٹیلیفون وغیرہ کی خبر کا ہرگز مذاہب اربعہ میں سے کسی مذہب میں اعتبار نہیں بلکہ اس باب میں مدار رویت ہلال پر ہے، قال تعالیٰ: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أَنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ تفسیر احمدی میں فرمایا ہے: وفيه اشارة الى ان الصوم والفطر يعتبر برؤية الهلال وهو الذي يطلق عليه اسم الشهر سواء كان تسعةً وعشرين يوما او ثلثين كاملة الخ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَبِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُم - الآية اسی تفسیر احمدی میں ہے: لما كانت السنة الشمسية ثلثمائة وخمسة وستين يوماً وربع يوم وكان ذلك قد يتفاوت بحيث قد يكون السنة ثلثة عشر شهرا وكانت السنة القمرية ثلثمائة واربعة وخمسين وكانت السنة عند الله لم تزد من اثنى عشر شهرا وكان مدارها على رؤية الاهلة قرر الله تعالى احكام الشرائع مثل الصوم والزكوة والحج والعدة على الاهلة وقال ان عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهر ا یعنی عدة الشهور في كل سنة اثنا عشر شهراکل شهر معتبر بروية الهلال هذا ما فيه الخ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ تا کہ تم مہینے کی گنتی پوری کرو۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: لا تصوموا حتى تروا الهلال كاملة فلا تصوموا حتى تروه فان اغمى عليكم فاكملوا العدة ثلثين“ (1) یعنی روزہ بے چاند دیکھے نہ رکھو نہ بے چاند دیکھے عید کرو، تو اگر تم سے چاند پوشیدہ رہے تو ماہ کا اندازہ کرو یعنی تیس دن پورے کر کے روزہ رکھو یا عید کرو۔ جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی تصریح ہے، فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم : روى البخاری و مسلم عن ابن عمر رضی الله تعالى عنهما صوموا لرويته وافطروا لرويته فان غم عليكم فاكملوا العدة شعبان ثلثين“(۲) یعنی روزے رمضان کا چاند دیکھ کر شروع کرو، اگر نہ دیکھے تو شعبان کے تیس دن پورے کرو۔ متفق علیہ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم : انا امة امية لا نكتب ولا نحسب الشهر هكذا وهكذا وهكذا وعقد الابهام في الثالثة والشهر هكذا وهكذا يعنى تمام ثلثين يعنى مرة تسعا وعشرين (۳) یعنی عرب ایسی امت ہیں کہ حساب و کتاب نہیں جانتے، مہینہ بھی انتیس کا ہوتا ہے اور کبھی تیس کا۔ متفق علیہ عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لاجرم ۔ یہ تمام احادیث کریمہ مصطفی علیہ التحیۃ والثناء بتا رہی ہیں کہ صوم وعید میں بجز رؤیت ہلال شرع مطہر میں ہر گز کسی ایسے کا اعتبار نہیں فرمایا یہ اخبار ریڈیو وغیرہ کی کیا معتبر ہوں؟ کہ کوسوں دور، پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کافر ہے یا مسلمان متقی ہے یا فاسق ؟ ایسے کتنے احتمالوں کے ساتھ وہ اخبار ظنی بھی نہیں رہتیں بلکہ وہم محض کا درجہ رکھتی ہیں، بھلا حساب تو یقینی ہے مگر دیکھو شرع مظہر نے اس کا بھی اعتبار نہ فرمایا اور صاف فرمایا: انا امةامية لا نكتب ولا نحسب (٢) ہم لکھتے پڑھتے نہیں۔ اسی لئے عظمائے شافعیہ میں جب ابن شریح جیسے فاضل نے حدیث گزشتہ میں ” فاقدروالہ“ کی یہ تاویل فرمائی کہ ماہ کا اندازہ حساب سے کرو یک لخت علماء نے اسے رد فرمایا۔ فتح الباری میں فرمایا: و قال ابن الصباغ اما بالحساب فلا يلزمه بلا خلاف بین اصحابنا قلت: و نقل ابن المنذر قبله الاجماع على ذلك فقال في الاشراف صوم يوم الثلاثين من شعبان اذا لم ير الهلال مع الصحو لايجب باجماع الامة وقد صح عن اكثر الصحابة والتابعين كراهة هكذا اطلق ولم يفصل بين حاسب وغيره فمن فرق بينهم كان محجوجا بالاجماع قبله اه ملتقطا نیز اسی میں ہے: بل ظاهر السياق يشعر بنفى تعليق الحكم بالحساب اصلاً وقد ذهب قوم الى الرجوع الى اهل التسيير فى ذلك وهم الروافض ونقل عن بعض الفقهاء موافقتهم قال الباجي و اجماع السلف الصالح حجة عليهم وقال ابن بزيزة وهو مذهب باطل الخ اشعۃ اللمعات میں شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی مواہب لدنیہ علامہ قسطلانی شافعی سے ناقل : و بعضی گفته اند که مراد تقدیر منازل قمر وضبط حساب نجوم است تا دانسته شود که این ماه سی روز است یا بیست و نه وایس قول غیر سدید است زیرا که قول منجمندین نا مقبول و نامعتبر است در شرع و اعتماد براں نتواں کرد و آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اصحاب و اتباع رضی اللہ عنہم وسلف وخلف رحمتہ اللہ علیہم بداں عمل نہ نموده اند و اعتبار نه کرده اند و عادت عرب نیز بداں واقع نه شده چنانکه در حدیث آئندہ بیاید د نحن امتہ امتیہ لا نكتب ولا نحسب - الحدیث‘اھ ملتقطا لا جرم ظاہر ہوا کہ رویت کا اعتبار نہ کرنا اور محض اخبار پس پردہ کو خواہی نخواہی معتبر ٹھہرا کر روزہ رکھ لینا یا عید کر لینا محض خلاف شرع کا ارتکاب اور در صورت دیگر محض وہم سے عبادت کا ابطال ہی ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: " من صام اليوم الذي شك فيه فقد عصی ابا القاسم (1) جس نے روز شک میں روزہ رکھا اس نے حضور ابوالقاسم محمد مصطفی صلی ا یہ یمن کی معصیت کی ! اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ - الآية (٢) اپنے اعمال باطل نہ کرو بالجملہ مدار کار رویت ہلال پر اور اس کا ثبوت شہادت شرعیہ یا استفاضہ خبر پر موقوف ہے اس کا ثبوت بھی بحمدہ تعالیٰ حدیث سے لیجئے: عن ابن عباس قال جاء اعرابی الی النبی صلی الله تعالی علیه و آله و سلم فقال انی رأيت الهلال یعنی هلال رمضان فقال أتشهد ان لا اله الا لله قال نعم قال أتشهد ان محمدا رسول الله قال نعم فقال يا بلال اذن في الناس ان يصوموا (۳) یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی حضور کے پاس آئے اور عرض کی کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے، حضور نے فرمایا کیا گواہی دیتا ہے کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں ، حضور نے فرمایا کیا گواہی دیتا ہے کہ محمد رسول خدا ہیں؟ کہا ہاں، حضور نے فرما یا اے بلال لوگوں کو خبر کرو کہ روزہ رکھیں ۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ ثبوت رویت قاضی کے یہاں بے ادائے شہادت نہیں ہوگا نیز معلوم ہوا کہ جب مطلع صاف نہ ہورمضان کا چاند ایک سے بھی ثابت ہو جائے گا اگر چہ مستور الحال ہو، اگر چہ عورت ہو یا باندی ہو یا غلام ہو، یہی مذہب ہے سادات حنفیہ کا اور امام شافعی کے نزدیک مطلقاً ایک عادل کی شرط ہے اور شوال میں بالا تفاق دومرد عادل آزاد کی گواہی شرط ہے۔ اسی شرط کے ساتھ کہ مطلع ابر آلود ہو۔ اور اگر مطلع صاف نہ ہو تو جمع کثیر کی خبر سے رویت دونوں ماہ میں حنفیہ کے نزدیک اور امام شافعی کے نزدیک رمضان میں مطلقا ایک عادل کی شہادت کافی ہے۔ اشعۃ اللمعات میں ہے: در میں حدیث دلیل است بر آنکه یک مرد مستور الحال یعنی آنکه فسق او معلوم نه باشد مقبول است خبر وے در ماه رمضان و شرط نیست لفظ شهادت و تفصیل مذاہب آنست که مذهب حنفیه و صحیح از مذهب شافعی و مشهور از مذهب احمد آنست که ثابت می شود هلال رمضان به خبر واحدے عدل و شرط نیست لفظ شہادت زیرا کہ این امر دینی است که متعلق بدانست و جوب این صوم پس مشابه شد روایت احادیث و اخبار را به خبر واحد عدل و نزد مالک و در قول مر شافعی را و در روایتی از احمد و اسحاق شرط است شہادت دو کس چنانکه در سائز شہادات ولیکن عدالت مخبر شرط است با تفاق و طحاوی گفته قبول کرده می شود عدل باشد یا غیر عدل مراد بغیر عدل مستور است چنانچه ظاہر حدیث است و نز دبعضے مقبول است خبر امراة وعبد و این درصوم است با غیم و در فطر با غیم شرط است عدد شہادت و عدالت و حریت و بے علت در هر دو شرط است جمع کثیر الخ ملتقطا (۱) رحمتہ الامہ میں علامہ ابو عبد اللہ حمد بن عبد الرحمن دمشقی عثمان شافعی سے ہے: ” واتفقوا على ان صوم رمضان يجب بروية الهلال او با کمال شعبان ثلثين يوما : وانما تثبت روية الهلال عند ابي حنيفة اذا كانت السماء مصحية بشهادة جمع كثير يقع العلم بخبر هم وفي الغيم بعدل واحد رجلا كان او امرأة حرا كان او عبداً وقال مالک لا يقبل الاعدلان وعن الشافعى قولان و عن احمد ر وایتان اظهر هما قول عدل واحد ولا يقبل في هلال شوال واحد بالاتفاق الخ ملتقطاً (٢) “ بالجملہ تصریحات مذاہب اربعہ سے ثابت ہوا کہ مدار کار شہادت شرعیہ پر ہے تو جہاں شہادت شرعیہ گزری وہاں کے لئے رویت ثابت ہو گئی دوسری جگہ والوں کے لئے محض ٹیلیفون کی خبر نا کافی ہلال کمیٹی رویت کے عینی گواہوں یا مجلس حکم میں حکم رویت پر جو متقی پر ہیز گار شاہد ہوں انہیں مختلف شہروں میں بھیجے وہ وہاں کے اعلم علماء بلدسی صحیح العقیدہ مرجع فتویٰ کے حضور شہادت دیں وہ شہادت لیکر حکم کرے تو دوسری جگہ والوں کے حق میں ثبوت رویت کا حکم ہوگا۔ یہ دونوں کا جواب ہو گیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جو نا کافی شہادت پر روزے توڑیں گے نماز عید پڑھیں گے وہی گنہگار ہوں گے اور ان پر ایک روزہ کی قضا لازم ہوگی جبکہ بعد میں بھی ۲۹ کی رویت ثابت نہ ہوئی۔ واللہ تعالی اعلم (۴) جس جگہ رویت ثابت ہو وہاں کے قریبی مضافات و ملحقات میں جہاں بہ آسانی خبر پہنچ سکے وہاں کے لئے اعلان کافی ہے بلکہ ایسی جگہوں میں غالباً خبر کا پوشیدہ رہنا متصور نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جو لوگ خلاف شرع کریں وہی جماعت کا ساتھ چھوڑنے والے سزا کے عند اللہ مستحق ہیں نہ کہ دوسرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم ذی قعدہ ۱۳۹۵ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح مصطفی رضا غفرلہ ریحان رضا خاں رحمانی غفرلہ لقد اصاب من اجاب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ریاض احمد سیوانی غفرلہ