کیا قاضی شہادت شرعیہ ملنے کے بعد اس شہادت کا اعلان ٹیلی فون، ٹیلی ویژن اور ریڈیو وغیرہ کے ذریعہ کر سکتا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: پاکستان کی حکومت نے پاکستان میں ہلال کمیٹی بنائی ہے جس کی شاخیں پورے پاکستان میں شہر شہر اور قصبہ قصبہ میں ہیں، ہلال کمیٹی میں سنی اور دیو بندی بلکہ شیعہ بھی ہیں، جب ملک کے کسی حصہ میں چاند دیکھائی دیتا ہے تو وہاں کی ہلال کمیٹی شہادتیں لے کر مرکزی ہلال کمیٹی کو اطلاع دیتی ہے، اس کے بعد مرکزی ہلال کمیٹی ، اسلام آباد کراچی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ رویت ہلال کا اعلان کرتی ہے۔ پاکستان کے عوام وخواص بلکہ علماء بھی انہی اعلان پر عمل کرتے ہیں۔ اگر کوئی عالم اس اعلان پر عمل نہ کرے تو غالباً دو چار افراد اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اندریں حالات حکم شرعی دریافت طلب ہے کہ کیا کرنا چاہئے ؟ اگر اس اعلان پر عمل کسی شرط کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے تو تفصیل کے ساتھ تمام شرائط تحریر فرماکر ممنون فرمائیں! الفقیر محمد معین الدین القادری الرضوی خادم اہلسنت خادم جامعہ قادریہ رضویہ، مصطفی آباد، فیصل آباد (پاکستان)
الجواب: شریعت مطہرہ نے ہمیں یہ حکم فرمایا ہے کہ ہم چاند دیکھ کر روزہ رکھیں اور چاند دیکھ کر عید کریں۔ حدیث میں ہے: صومو الرؤيته افطر و الرؤيته (1) اور چاند نظر نہ آنے کی صورت میں ہمیں حکم ہوا کہ گنتی پوری کریں۔ قال تعالى : "وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ “(۲) (1) الصحيح لمسلم، کتاب الصیام، باب وجوب صوم رمضان لروية ،الهلال، ج ۱، ص ۳۴۷، مجلس برکات (۲) سورة البقرة: ۱۸۵ وجاء في الحديث: فان غم علیکم فاكملوا شعبان اور ہر امر کے ثبوت کو بعینہ عادلہ پر موقوف فرمایا۔ قال النبي علیه السلام : "البيئة على المدعی و الیمین علی من انکر رؤیت ( کہ اہم دیانات سے ہے ) کا مدار بھی شہادت شرعیہ یا استفاضہ ( کہ وہ بھی شہادت شرعیہ کا مظہر ہے اور طرف مثبت سے ایک طریقہ ہے ) پر ٹھہرا۔ در مختار میں فرمایا: "فيلزم اهل المشرق برؤية اهل المغرب اذا ثبت عندهم رؤية اولئک بطریق موجب اور رد المحتار میں طریق موجب کی تفسیر میں فرمایا: (قوله بطريق موجب) كان يتحمل اثنان الشهادة او يشهدا على حكم القاضي او يستفيض الخبر بخلاف ما اذا اخبران اهل بلدة كذار أوه فانه حكاية - اه اور شہادت کے لئے معاینہ مشہور بہ ضرور اور بے معاینہ مشہور بہ شہادت ناجائز۔ در مختار میں ہے : ولا يشهد احدبمالم يعاينه بالاجماع “ اسی میں ہے: شرطها العقل الكامل وقت التحمل والبصر ومعاينةالمشهودبه اسی لئے جوامر مجوب ومستور ہو، اس پر شہادت قبول نہیں ۔ اسی در مختار میں ہے: لا يشهد على محجب“ اور دربارۂ شہادت محض آواز پر اکتفانہ فرمایا گیا۔ احکام القرآن ابوبکر جصاص رازی میں ہے : فغیر جائز قبول شهادته على الصوت“(۲) نیز ہندیہ میں ہے: ”لو سمع من وراء الحجاب لا يسعه ان يشهد لاحتمال ان يكون غیرہ اذالنغمة تشبه النغمة “(س) یہاں سے ثابت ہوا کہ ثبوت رویت شہادت شرعیہ پر موقوف ۔ نیز ظاہر ہوا کہ ایک جگہ رؤیت کا ثابت ہو جانا دوسری جگہوں کے لئے کافی جبکہ دوسری جگہ والوں کے نزدیک اس جگہ کی رؤیت شرعی طریقہ سے ثابت ہو جائے مثلاً اس جگہ سے دو آدمی آکر اپنی رؤیت کی گواہی دیں یا یہ گواہی دیں کہ فلاں جگہ کے قاضی کے حضور رویت ثابت ہوگئی یا خبر مستفیض ہو جائے یعنی اس جگہ سے متعدد جماعتیں آکر چاند دیکھنا بیان کریں۔ ردالمحتار میں ہے: ”قال الرحمتی معنی الاستفاضة ان تأتى من تلك البلدة جماعات متعددون كل منهم يخبر عن اهل تلك البلدة انهم صاموا عن رؤية ) اور محض افواہ کا پھیل جانا کافی نہیں۔ اسی میں اس عبارت کے متصل ہے: ” لا مجرد الشیوع من غير علم بمن اشاعه كما قد تشیع اخبار يتحدث بها سائر اهل البلدة ولا يعلم من اشاعها كما ورد أن في آخر الزمان يجلس الشيطان بين الجماعة فيتكلم بالكلمة فيتحدثون بها ويقولون لا ندرى من قالها فمثل هذا لا ينبغى أن يسمع فضلا عن أن يثبت به حكم - اه (۵) نیز ظاہر ہوا کہ شہادت کے لئے مشہور بہ کی رویت ضرور اور عرفاً وشرعاًیہ بھی ظاہر کہ شہادت کے لئے مجلس قضا شرط ۔ اب یہ خوب آشکار ہو گیا کہ ہلال کمیٹی جو اطلاع مرکزی کمیٹی کو دیتی ہے وہ محض خبر ہے، اس سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا اور وہ اعلان بھی جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ہوتا ہے محض خبر اور اثبات رویت کے لئے ناکافی اور روزہ وعید میں اس کا اعتبار حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۰ محرم الحرام ۱۴۰۱ھ