رمضان المبارک کے چاند کی رویت اور شہادت کے متعلق سہسوان اور بدایوں کا اختلاف
۲۹ رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ کو قصبہ سہسوان میں مطلع صاف ہونے پر بھی چاند نظر نہیں آیا۔ رات کا کچھ حصہ گزرا تھا کہ کچھ لوگوں نے آکر مسجد میں بتایا کہ آپ اعلان کریں ، اس لئے کہ ریڈیو میں یہ خبر آئی ہے کہ کل صبح دہلی میں عید کی نماز ہوگی ۔ امام مسجد نے مسئلہ بتایا کہ ریڈیو کی خبر شریعت میں معتبر نہیں ، شہادت لے آؤ، اتنے میں وہ لوگ واپس گئے پھر دوسری جماعت آئی اور انہوں نے بتایا کہ مولوی نظر الحسن غیر مقلد نے چاند کی خبر معتبر سمجھ کر چاند ہونے کا ۲۹ رمضان میں ہی اعلان کر دیا ہے۔لہذا کوئی صورت نکالی جائے، لوگوں کا مشورہ یہ ہوا کہ بدایوں بریلی کا پتہ لگایا جائے کہ چاند ہوا ہے یا نہیں؟ پھر رات کو ایک بجے بدایوں دو آدمی با شرع گئے اور وہاں جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہاں شرعی شہادت گزر چکی ہے اور دوذمہ دار مفتیوں نے عید ہونے کا اعلان کر دیا۔ اب ان دونوں شہادت مانگی تو دونوں مفتیوں نے کہا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ میرے پاس شہادت گزری ہے لہا تم لوگوں کے لئے یہ علی الشہادت ہے، وہاں سے سہسوان واپس آیا اور مفتی سہسوان کو بتایا کہ ہم دو آدمی بدایوں سے شہادت لے کر آئے ہیں، اب کیا کرنا چاہیے ؟ مولانا نے صاف لفظوں میں اجازت دی کہ اعلان کراؤ پھر دونوں شاہد نے کہا کہ اس کے ذمہ دار آپ ہیں، مولانا نے پھر یہ ہی کہا کہ بس ذمہ دار ہوں مولانا کی اجازت پر اعلان کرایا گیا جس سے لوگوں نے اختلاف کیا کہ یہ شہادت نہیں ، خبر ہے۔ اس پر امام عیدگاہ نے بھی اختلاف کیا اور امام عیدگاہ نے شہادت تسلیم نہیں کی اور نماز بھی نہیں پڑھائی ۔ کچھ لوگوں نے رمضان کا ۲۹ کا چاند تسلیم کیا اور شہادت شرعی تسلیم کر کے عید کی نماز ادا کی اور کچھ لوگوں نے ۳۰ / رمضان پورے کیے اور ایک روزہ کو قضا سمجھا۔ آیا اب ۲۹ / رمضان المبارک والے کی عید کی نماز ہوئی یا نہیں؟ اور شہادت معتبر ہوگی یا نہیں؟ کیا ایک روزہ کی قضا رکھنا لازم ہے؟ اور ۳۰ / رمضان پورے کرنے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ جبکہ ۲۹ / رمضان والے یکم شوال سمجھ کر اس دن کے روزے کو حرام سمجھتے ہیں۔ خلاصہ تحریر فرمائیں! المستفتی: جناب محمد ظفر السعيد صاحب قصبہ سہسوان ضلع بدایوں شریف (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ یہ سہسوانی لوگ نہ مجلس حکم میں حاضر تھے نہ بدایوں میں خود چاند دیکھنے والوں نے انہیں اپنی شہادت پر شاہد کیا تو اصلاً نہ شہادت علی الشہادۃ ہوئی نہ شہادت علی الحکم متفق ہوئی کہ شہادت علی الشہادۃ یہ ہے کہ مثلاً دو مرد عادل یا ایک مرد، دو عورت ( عدول ) جنہوں نے خود چاند کو دیکھا وہ دو مرد عادل یا ایک مرد، دو عورت عدول کو گواہ بنائیں، بایں طور کہ ہر اصل گواہ فرع سے کہے کہ میری اس گواہی پر گواہ ہو جا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے فلاں ماہ فلاں سنہ کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا۔ گواہان فرع یہاں آکر یوں شہادت دیں کہ فلاں بن فلاں نے مجھے اپنی اس گواہی پر گواہ کیا کہ فلان بن فلاں مذکور نے ماہ فلاں سنہ فلاں فلاں کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اور فلاں بن فلاں مذکور نے مجھ سے کہا کہ میں اس گواہی پر گواہ ہو جاؤں۔ جبکہ وہاں کہ گواہان اصل حاضری سے معذور ہوں۔ در مختار میں ہے : الشهادة على الشهادة مقبولة وان كثرت استحسانا في كل حق على الصحيح الا في حدود عقود بشرط تعذر حضور الأصل بموت او مرض او سفر واكتفى الثاني بغيبته بحيث يتعذر ان يبيت بأهله واستحسنه غير واحد وفي القهستانی والسراجية وعليه الفتوى وبشرط شهادة عدد نصاب ولورجلا وامرأتين عن كل أصل ولو امرأة وكيفيتها ان يقول الأصل مخاطبا للفرع ولو ابنه بحر: اشهد على شهادتي أنی اشهد بكذا ويقول الفرع وأشهد ان فلانا اشهدنى على شهادته بكذا و قال لي اشهد على شهادتي بذلک اه مختصراً (۱) عالمگیریہ میں ذخیرہ سے ہے: ینبغی ان یذکر الفرع اسم الشاهد الاصل واسم ابيه ،، وجده حتی لو ترک ذلک فالقاضي لا يقبل شهادتهما (۲) اور شہادت علی الحکم نہ ہونا ظاہر کہ یہ دونوں حکم کے وقت حاضر نہ تھے۔ لہذا یہ دونوں شاہد شرعی نہ ہوئے بلکہ مخبر محض اور جو انہوں نے بیان کیا وہ خبر محض ہے لہذا ان کی خبر پر روزہ توڑنا اور عید کرنا حلال نہ تھا اور جنہوں نے سہ شنبہ کو عید کی انہوں نے درست کیا مگر روزہ کی قضا لازم نہیں کہ دوشنبہ کا روز عید ہونا شہادت شرعیہ سے ثابت ہو چکا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله