روزہ کے فدیہ سے متعلق قرآنی ترجمہ کی غلطی اور صحیح تفسیر کا بیان
لفظ داعی الی اللہ کا اطلاق قرآن کی روشنی میں و داعیا الی الله باذنه الخ حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی اس خطاب سے نوازا جا سکتا ہے؟ تیروں سے نشان کردہ صفحات منسلک ہیں؟ ۔ بینوا توجروا، والسلام! لمستانی: نیاز قیص
الجواب: (۱) ترجمہ دیکھا، غلط پایا اور روزہ کے متعلق ترجمہ و تفسیر میں غلط مسائل درج ہوئے چنانچہ وہ لکھتا ہے : ” جن لوگوں کو قضا روزہ کی طاقت ہے ، ان پر فدیہ ایک مسکین کا کھانا جبکہ اس کا صحیح ترجمہ یوں ہے جو سید نا اعلیٰ حضرت نے فرمایا: ” اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا اور مترجم نے جو تر جمہ کیا ہے اس کی تقدیر پر آیت کریمہ کا حکم باقی نہیں ہے بلکہ منسوخ ہو گیا یعنی اب یہ نہیں ہوسکتا که صحت مند آدمی اگر روزہ نہ رکھنا چاہے تو فدیہ دیدے یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا اور صحت مند پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا البتہ بہت بوڑھا جس کے لئے آئندہ صحت کی کوئی امید نہیں ہے اور ہنوز اسے روزے کی طاقت نہیں اس کے حق میں اس آیت کا حکم باقی ہے۔ تفسیر خازن میں ہے : " و اختلف العلماء في حكم هذاه الآية فذهب اكثرهم الى انها منسوخة وهو قول عمر ابن الخطاب وسلمة ابن الأكوع وغيرهما وذلك انهم كانوا في ابتداء الاسلام مخيرين بين ان يصوموا وبين ان يفطروا او يفدوا وانما خيرهم الله تعالى لئلا يشق عليهم لانهم كانوا لم يتعودوا الصوم ثم نسخت التخيير ونزلت العزيمة بقوله تعالى: فمن شهد منكم الشهر فليصمه فصارت هذه الآية ناسخة للتخيير وقال قتادة هي خاصة في حق الشيخ الكبير الذي لا يطيق الصوم وذهب جماعة منهم ابن عباس الى ان الآية محكمة غير منسوخة ومعناها وعلى الذين كانوا يطيقونه فى حال الشباب ثم عجزوا عنه عند الكبر فعليهم الفدية بدل الصوم الخ ملتقطا )) اور جب یہ آیت روزہ سے عاجز بوڑھے مرد و عورت کے بارے میں ہے تو اس کا صحیح ترجمہ وہی ہے جو اعلیٰ حضرت نے کیا اور اس کی تائید حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قرآت سے ہوتی ہے ”لا يطيقونه مدارک التنزیل میں ہے: ”وقيل معناه لا يطيقونه فاضمر لا لقرائة حفصة كذلك وعلى هذا لا يكون منسوخااه ملتقطا“ اور تفسیر مذکور میں جو مسئلہ بیان ہوا وہ غلط ہے اور صریح آیت کے خلاف ہے، آیت کا صریح حکم یہ ہے کہ مریض شفایاب ہو کر اور مسافر سفر سے لوٹ کر اور دنوں میں اتنے روزے قضا ر کھے جو مرض یا سفر میں چھوٹے اور باقی آیتوں کا ترجمہ بھی غلط ہے، ترجمہ رضویہ سے مطابقت کے بعد یہ امر خوب ظاہر ہو جائے گا اور ایسا شخص گمراہ بیدین ہے، اسے داعی الی اللہ کہنا حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم داعی الی اللہ اصالہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کی نیابت میں ہر سچا پکاسنی صیح العقیدہ واعظ داعی الی اللہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱ / رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ