شہادت شرعیہ ملنے سے پہلے رمضان کا روزہ توڑنے والے کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) اس سال رمضان شریف کی ۲۹ / تاریخ کو چاند دیکھنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی لیکن نظر نہیں آیا۔ اس لئے ہم لوگوں نے حکم شرعی کے مطابق روزہ رکھا اور ۱۰ر بجے دن تک اپنے علاقہ کی خبر لیتے رہے لیکن کہیں سے چاند دیکھنے کی کوئی خبر نہیں سکی۔ البتہ یہ معلوم ہوا کہ قرب وجوار کے مسلمان محض ریڈیو کی خبر پر نماز عید پڑھ رہے ہیں۔ تقریباً ۳ بجے دن ایک شخص میرے گاؤں میں بطور مہمان آیا اور اس نے کہا کہ ہم لوگوں نے عید منالی۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ اس مہمان کے یہاں کے شخص نے چاند دیکھا ہے اور ریڈیو کے ذریعہ بھی چاند دیکھنے کی خبر وصول ہوئی ہے۔ اس کے کہنے پر میرے بھی گاؤں کے ایک عالم دین نے فوراً روزہ توڑ دیا اور اپنے کچھ احباب کا روزہ بھی تو ڑوایا۔ اس غیر شرعی شہادت پر روزہ توڑنے والے عالم اور ان کے حکم پر دوسرے روزہ توڑ دینے والے پر کیا حکم ہے؟ ادلۂ شرعیہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں! (۲) ہمارے گاؤں میں ایک عالم دین ہیں، وہ دیہات میں نماز جمعہ کو نا جائز سمجھتے ہوئے کبھی نماز جمعہ نہیں پڑھتے اور نہ کبھی فنائے شہر میں نماز جمعہ جا کر پڑھتے ہیں، جبکہ فنائے شہر گاؤں سے دو میل کے فاصلے پر واقع ہے گویا وہ نماز جمعہ پڑھتے ہی نہیں لیکن عیدین کی نماز میں برابر شریک ہوتے ہیں اور کبھی دوسرے گاؤں میں جا کر نماز عید پڑھائی ہے جبکہ عیدین اور نماز جمعہ دونوں کا ایک ہی حکم شرعی ہے۔ فقط عیدین میں شریک ہونا یہ نام و نمود پر مبنی ہوگا یا نہیں؟ ایسے محض ریا اور سمعہ کرنے والے عالم پر شریعت
مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ اس کی اقتدا میں نماز اور کسی طرح کی شہادت جائز ومعتبر ہے یا نہیں ؟ ادلہ شرعیہ سے جواب عنایت فرمائیں! (۳) میرے گاؤں میں امدادی رقوم سے ایک نظامیہ مدرسہ چلتا رہا بعد میں اس مدرسہ کو بہار بورڈ سے محق کر دیا گیا۔ جب مدرسہ کے اساتذہ کو پوری تنخواہ بورڈ سے ملنے لگی جب ان لوگوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت سے قطعی منہ موڑ لیا، اب ان کی صرف حاضری چلتی ہے، مجبور لوگوں نے اپنے اپنے گاؤں میں بچوں کی تعلیم کے لئے مکتب قائم کر لیے۔ لہذا ایسے مدرسین و اساتذہ پر شریعت مطہرہ کا جو بھی حکم عائد ہو تحریر فرمائیں ۔ کیا ان کی اقتدا میں نماز یا کسی قسم کی کوئی شہادت جائز و معتبر ہے؟ (۴) میرے گاؤں میں ایک مولانا صاحب ہیں جنہوں نے اپنے اور اپنے خویش واقارب کو نماز جمعہ کو ناجائز بتلاتے ہوئے روک دیا، کچھ ہی دنوں بعد اسی گاؤں کے مدرسہ میں ان کی تقرری کی بات چلی تو نوکری کے لالچ میں اس گاؤں میں آکر نماز جمعہ پڑھنا شروع کر دیا پھر کسی عذر معقول کی وجہ سے اراکین مدرسہ نے انہیں مدرس بحال نہ کیا تب سے پھر انہوں نے جمعہ کی نماز پڑھنا بالکل ہی چھوڑ دیا۔ لہذا ایسے عالم دین پر کیا حکم شرعی عائد ہوتا ہے؟ جواب عنایت ہو! المستفتی : محمد طاہرحسین رضوی سیوانی الجواب: (1) جبکہ رؤیت ہلال کی شہادت شرعیہ نہ ملی تھی تو اس دن عید منانا اور روزہ توڑ نا حلال نہ تھا، جس شخص نے مہمان کے یہاں کسی کے چاند دیکھنے کی خبر کو شہادت شرعیہ سمجھا یا اس خبر محض کو رؤیت ہلال کا ثبوت سمجھا وہ سخت غلطی پر ہے اور اسے روزہ توڑنا، توڑ وانا حلال نہ تھا، تو بہ کرے اور اس روزہ کی قضا لازم ہے جبکہ شہادت کافیہ سے اس دن کا روز عید ہونا معلوم نہ ہوا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فی الواقع دیہات میں جمعہ کی طرح عیدین بھی درست نہیں اور عید کی نماز پڑھنا دیہات میں مکروہ تحریمی ہے۔ درمختار میں ہے: صلاة العيد فى القرى تكره تحریماً الخ (۱) الدر المختار، كتاب الصلوۃ، باب العیدین، ج ۳، ص ۴۶ ، دار الكتب العلمية، بيروت عالم مذکور کو اس سے بھی احتراز لازم ہے اور تو بہ بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بر تقدیر صدق سوال و ثبوت جرم وہ لوگ سخت گناہ گار عند اللہ وعند الناس ہیں اور تنخواہ کے مستحق نہیں اور امامت کے بھی لائق نہیں، نہ ان کی شہادت قبول ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) گاؤں میں نماز جمعہ نہ پڑھنے ہی کا حکم ہے مگر بر تقدیر صدق سوال لانچ کی بنا پر پڑھنا پھر نفسانی غرض کے لئے چھوڑ دینا قابل مواخذہ جرم ہے پھر یہ عوام کے دل میں اہانت علماء اور احکام شرع کی بے اعتباری جمانا ہے، ان عالم پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم