مال غیر کی زکوۃ بلا اجازت و توکیل ادا کرنے سے زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: میرے یہاں دیگیں کرائے پر چلتی ہیں وہ دیکھیں کئی لوگوں کی ہیں ان میں میرے چچا کی ایک دیگ ہے، چا کا انتقال ہو گیا ان کا لڑکا پاکستان میں تھا اس کا بھی انتقال ہو گیا، دیگ کا کرایہ جمع کر رہا ہوں، چاکے چار پوتے ہیں اور تین پوتیاں ہیں اور ایک ان کے لڑکے کی بیوی ، وہ کرایہ میں کس کو دوں؟ پوتوں کو یا پوتوں کی ماں کو؟ وہ سب بھی پاکستان ہیں، جب پاکستان جاؤں گا تو ان کو دوں گا، یا وہ ہندوستان آئیں تو یہیں پر دوں گا۔ اب یہ بتایا جائے جو کرایہ ان کا جمع ہے تقریباً دو ڈھائی ہزار روپے، اس کی ہر سال زکوۃ انہی روپوں میں سے نکال دیتا ہوں، یہ جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ چچانے تو مجھ سے کہا نہیں تھا، اب جو میں نے زکوۃ نکالی ہے وہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں تو میرے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور میں کیا کروں؟ ایسی صورت میں تحریر فرمائیں۔ المستفتی: ہدایت رسول محلہ بھورے خاں، پیلی بھیت
الجواب: وہ کرایہ اس کو دیا جائے جو تمام ورثہ میں متدین ثقہ معتمد ہو کہ وہ دیانت داری سے جملہ ورثہ پر تقسیم کر دے اور جب کہ آپ کے چچانے آپ کو زکوۃ ادا کر نے کا وکیل نہ بنایا تھا تو اس رقم سے جو آپ نے زکوۃ دی ان کی زکوۃ ادا نہ ہوئی اور آپ پر تاوان لازم ہوا۔ لہذا اتنی رقم بھی شامل کر کے ورثہ کو دے دیجئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵/ذوالقعده ۱۴۰۴ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی