سادات کے لئے خمس کا حکم اور حضور علیہ السلام کے حصہ خمس کے سقوط کا بیان
ناجائز قرار دیا ہے؟ سیدوں کو خمس لینا کس حالت میں جائز ہے؟ شیخ محمد عبد الله ، از بمبئی - ۳
الجواب: ہمارے ائمہ اعلام حنفیہ قدست اسرار ہم الزکیہ کا مذہب مہذب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ شمس بوجہ وصال مبارک آنجناب علیہ السلام ساقط ہو گیا اس لئے کہ حضور علیہ السلام کو استحقاق نمس بوجہ رسالت تھا اور گو کہ رسالت آنجناب علیہ السلام اب بھی باقی ہے مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول نہیں کہ اس وجہ سے اسے شمس کا استحقاق ہو۔ در مختار میں ہے: ”و سهمه عليه الصلاة والسلام سقط بموته لانه حكم علق بمشتق وهو الرسالة كالصفى الذى كان عليه الصلاة والسلام يصطفيه لنفسه (1) رد المحتار میں ہے: قوله لانه حكم علق بمشتق وهو الرسالةعبارةالنهروهوالرسول ،، فيكون مبدء الاشتقاق علة وهو الرسالة ولا رسول بعده (٢) اسے یوں سمجھئے کہ اگر یہ کہا جائے کہ تمہیں عالم ملے تو اس کی عزت کرو اور اگر فاسق سے ملاقات ہو تو اس کی توہین کرنا تو مخاطب کے ذہن میں معا یہ بات حاصل ہوگی کہ جب عزت و اہانت کا حکم عالم و فاسق پر معلق ہے تو اس حکم کی علت عالم کا علم اور فاسق کا فسق ہے جو عالم و فاسق کا مبدا اشتقاق ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کے قول : "فَآنَ لِلهِ مُمسَهُ وَلِلرَّسُولِ- الآية ، میں اخذ خمس کا حکم اس ذات کے لئے ہے جو موصوف به رسالت ہو اور بہ نص قرآنی حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے بعد کوئی نیا رسول نہیں ہو سکتا ۔ قال تعالیٰ: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنِ الآيَةَ () تو خمس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے ساتھ خاص تھا تو یہ خاص بآنجناب رسالت (1) الدر المختار كتاب الجهاد باب المغنم و قسمته، ج ۶، ص ۲۴۹ ، ۲۵۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) رد المحتار، کتاب الجهاد باب المغنم و قسمته، ج ۶، ص ۲۴۹ ، ۲۵۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) سورة الانفال: ۴۱ (۴) سورة الاحزاب:۴۰ تاب سال بنا ہم کسی اور کے لئے کیونکر جائز ہوگا اور کیونکر دیا جائے گا؟ اور یہ دعوی کہ شمس رسول علیہ السلام بوجہ امامت ہے لفظ رسول کو اس کے ظاہر سے بے ضرورت پھیرنا اور یہ ممنوع ہے تو دعوی مذکورہ ممنوع پھر اس مذہب کی تقلید شیعہ کو یا مفید کہ اس کے قائل امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اس شمس میں امام وقت حضور کا قائم مقام ہوگا نہ یہ کہ وہ شمس سادات کو دیا جائے گا شیعہ اگر گمان کرتے ہوں کہ سادات اہل قرابت حضرت رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں تو بوجہ وراثت خمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پائیں گے تو یہ گمان فاسد ہے کہ حدیث نبوی میں صاف ارشاد ہوا کہ ”انامعاشر الانبياء ولا نورث ماتركناه صدقة“ ہم نبی لوگ کسی کو وارث نہیں بناتے جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے اور بغرض صحت جریان وراثت بھی خمس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا سادات کو دینا بہت ارث نہیں ہو سکتا کہ یہ شے خاص بہ آنجناب علیہ السلام بہ حالت حیات ظاہری تھی چنانچہ ہم ثابت کر آئے اور خاص بہ آنجناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے متجاوز نہیں ہو سکتا پھر وراثت کے لئے قیام میراث ضرور ورنہ میراث جاری کا ہے میں ہوگی ؟ اور وہ بلاشبہ قائم نہیں تو کیا لیا جائے گا اور کیا دیا جائے گا ؟ اور اگر مراد شمس ذوی القربیٰ ہے تو ذوی القربی کے فقراء ویتامی ومساکین کو ہمارے مذہب میں بھی دینے کا حکم ہے اور اغنیاء کو نہیں دیا جائے گا پھر تمام مصارف مذکورہ کو دینا واجب نہیں بلکہ ایک مصرف پر اقتضاء بھی جائز ہے کہ بیان خمس کی آیت میں مصارف مذکورہ کا بیان تعیین مصرف کے لئے ہے نہ کہ ہر مصرف کو دینا واجب فرمانے کے لئے جس طرح کہ زکوۃ کے مصارف کی تعیین ”إِنَّمَا الصَّدَقَتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ - الآية سے فرمادی پھر یہ واجب نہیں کہ تمام مصارف کو زکوۃ دی جائے بلکہ ایک ہی صنف پر بھی اقتضاء جائز۔ در مختار میں ہے: ” و الخمس الباقى يقسم اثلاثا عندنا لليتيم والمسكين وابن السبيل وجاز صرفه لصنف واحد فتح وفى المنيه: لو صرفه للغانمين لحاجتهم جاز وقد حققته في ،، شرح الملتقى ا “ (1) رد المحتار میں ہے: قوله (للیتیم) ای بشروط فقره وفائدة ذكره دفع توهم ان اليتيم لا يستحق من الغنيمة شيئا لان استحقاقها بالجهاد واليتيم صغير فلا يستحقها ومثله ما في التاويلات للشيخ ابى منصور لما كان فقراء ذوى القربى يستحقون بالفقر فلا فائدة في ذكرهم في القرآن اجاب بان افهام بعض الناس قد تفضى الى ان الفقير منهم لا يستحق لانه من قبيل الصدقة ولا تحل لهم بحر (٢) “ رد المحتار میں ہے: قوله (وجاز صرفه) علله فی البدائع بان ذكر هؤلاء الاصناف لبيان المصارف لا لايجاب الصرف الى كل صنف منهم شيئا بل لتعيين المصرف حتى لا يجوز الصرف الى غير هؤلاءاه شرنبلاليةاه (۳) نیز در مختار میں ہے: وو ولا حق لا غنيائهم عندنا (۴) یہاں سے ظاہر کہ ہم ذوی القربی غنی و فقیر سب کے لئے نہیں بلکہ ان کے فقراء اور حاجتمندوں کے لئے ہے اور زمانہ حضور علیہ السلام میں جو سہم ذوی القربیٰ کو بے امتیاز غنی و فقیر ملتا تھا وہ بوجہ فقدان علت که نصرت رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تھی ۔ خمس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم جو اخراج خمس سے پہلے حضور علیہ السلام لے لیتے تھے اسی کی طرح ہم حنفیہ کے نزدیک ساقط ہو گیا۔ اور یہ جو ہم نے کہا کہ ہم مذکورہ ذوی القربیٰ کا زمانہ حضور علیہ السلام کے بعد بوجہ فقدانِ علت نصرت ساقط ہو گیا، اس پر دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے سہم مذکورہ بنو ہاشم و بنو عبد المطلب کو عطا فرمایا اور بنونوفل وعبد شمس کو نہ دیا حضرت عثمان غنی نے انہیں محروم فرمانے کا سبب دریافت کیا تو حضور صلی (1) الدر المختار كتاب الجهاد، باب المغنم، ج ۲، ص ۲۴۷ - ۲۴۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) ردالمحتار، کتاب الجهاد باب المغنم ، ج ۶، ص ۲۴۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) رد المحتار، کتاب الجهاد، باب المغنم، ج ۲، ص ۲۴۷ ، دار الكتب العلمية، بيروت الدر المختار، کتاب الجهاد، باب المغنم، ج ۶، ص ۲۴۸ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اور بنو عبد المطلب ایک ہی چیز ہیں اور اپنے انگشتان مبارک کو ایک دوسرے میں پیوست فرمایا یعنی وہ میرے ساتھ جاہلیت و اسلام میں رہے اور میری مدد کی جیسا کہ ایک روایت میں وارد ہوا تو ثابت ہوا کہ قرابت سے مطلق رشتہ نسب مراد نہیں بلکہ رشتہ نصرت مراد ہے ورنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بنو ہاشم و بنوعبد المطلب کو خاص نہ فرماتے بلکہ چاہئے تھا کہ بنو عبد المطلب پر بنو نوفل و بنوعبد شمس کو مقدم فرماتے کہ نوفل وعبد شمس باشم کے عینی بھائی ہیں اور مطلب ہاشم کے علاقی بھائی تھے تو ظاہر کہ یہ خصوصیت بوجہ نصرت تھی اور نصرت وفات حضور علیہ السلام سے منتہی ہوگئی تو وہ سہم ذوی القربی بھی سہم رسول کی طرح ساقط ہو گیا اور اس کے متوسط پر فعل خلفائے راشدین اور عدم اعتراض صحابہ کی وجہ سے اجماع ہوگیا۔ تفسیر روح المعانی میں الوسی رقمطراز ہے: واريد بهم بنو هاشم و بنوا المطلب المسلمون لانه صلی اللہ تعالی علیه و سلم وضع سهم ذوى القربى فيهم دون بنى اخيهما شقيقهما عبد شمس واخيهما لابيهما نوفل مجيبا عن ذلك حين قال له عثمان وجبير بن مطعم هولاء اخوتک بنوهاشم لا ينكر فضلهم لمكانك الذى جعلك الله تعالى منهم ارأیت اخواننا من بنی عبدالمطلب اعطيتهم وحرمتنا وانما نحن و هم بمنزلة نحن وبنو المطلب شئ واحد و شبک بین اصابعه رواه البخاری ای لم يفارقوا بنی هاشم فى نصرته صلى الله تعالى عليه وسلم جاهلية ولا اسلاما وكيفية القسمة عند الاصحاب انها كانت على عهد رسول الله صلى الله تعالى على خمسة اسهم سهم له عليه الصلوة والسلام وسهم للمذكورين من ذوى القربى وثلاثة اسهم للاصناف الثلثة الباقية واما بعد وفاته عليه الصلاة والسلام فسقط سهمه صلى الله تعالى عليه وسلم كما سقط الصفى وهو ما كان يصطفيه لنفسه من الغنيمة مثل درع وسيف وجارية بموته صلى الله تعالى عليه وسلم لانه كان يستحقه برسالته ولا رسول بعده صلى الله تعالى عليه وسلم وكذا سقط سهم ذوى القربى وانما يعطون بالفقر وتقدم فقراء هم على فقراء غيرهم ولا حق لاغنياء هم لان الخلفاء الاربعة الراشدين قسموه كذالک و کفی بهم قدوة (1) (1) تفسیر روح المعانی، ج ۱۰، ص ۳، تحت قوله تعالى : فان لله خمسه وللرسول، دار احیاء التراث العربی، بیروت اسی میں حضرت زید بن علی سے ہے، انہوں نے فرمایا: ،، ليس لنا ان نبنى منه القصور ولا ان نركب منه البراذين ) اسی میں ہے: ولان النبي صلى الله تعالى عليه وسلم انما اعطاهم للنصرة لا للقرابة وهو يدل على ان المراد بالقربى فى النص قرب النصرة لاقرب القرابة وحيث انتهت النصرة انتهى الاعطاء لان الحكم ينتهى بانتهاء علته الخ (۲) رد المحتار میں ہے: قوله (ولاحق لاغنيائهم عندنا وعند الشافعى يستوى فيه فقيرهم وغنيهم ويقسم بينهم للذكر كالانثيين لانه لم يفرق فى الآية بين الفقير والغنى ولنا ان الخلفاء الراشدين قسموه كما قلناه بمحضر من الصحابة فكان اجماعا و النبی صلی اللہ تعالی علیه وسلم كان يعطيهم للنصرة لا للفقر لقوله عليه السلام انهم لم يزالوا معى هكذا في الجاهلية والاسلام و شبک بین اصابعه حين اعطی بنی هاشم والمطلب لانهم قاموا معه حین ارادت قريش قتله عليه الصلاة والسلام ودخل بنو نوفل وعبد شمس في عهد قریش ولو كان لاجل القرابة لما خصهم لان عبد شمس ونوفلا اخوان لهاشم لابيه وامه والمطلب كان اخاه لابيه فكان اقرب والمراد بالنصرة كونهم معه يوانسونه بالكلام والمصاحبة لا بالمقاتلة ولذا كان لنساء هم فيه نصيب ثم سقط ذلك بموته عليه الصلاة والسلام لعدم تلك العلة وهى النصرة يستحقونه بالفقر زيلعي ملخصا و حاصله انه كما سقط سهمه صلى الله عليه وسلم بموته عندنا سقط سهم ذوى القربى بموته ايضا لفقد علة استحقاقهم - الخ (۳) (1) تفسیر روح المعانی، ج ۱۰، ص ۳، تحت قوله تعالى: فان لله خمسه وللرسول، دار احیاء التراث العربی، بیروت (۲) تفسیر روح المعانی، ج ۱۰، ص ۳، تحت قوله تعالى : فان لله خمسه وللرسول، دار احیاء التراث العربي، بيروت (۳) رد المحتار، کتاب الجهاد باب المغنم، ج ۶، ص ۲۴۸ ، دار الكتب العلمية، بيروت بالجملہ ہمارے نزدیک سہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی طرح سہم ذوی القربی بھی بعد وفات رسول علیہ السلام ساقط ہو گیا اور فقراء و یتامی و مسافرین کا سہم باقی ہے اور ذوی القربی کے فقراء کو ان کے غیر کے فقراء پر مقدم کیا جائے گا اور سادات اغنیاء کے لئے اس میں کوئی حق نہیں اور یہ کہ آیت میں مصارف کا بیان ہے نہ یہ کہ ہر صنف کو حصہ دینا واجب فرمایا ہے تو امام کو اختیار ہے کہ اپنی صوابدید کے موافق ایک یا دو صنف کو دے دے اور باقی کو نہ دے اور یہی مذہب شیعہ امامیہ کا ہے چنانچہ تحفہ اثنا عشریہ میں شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں: طعن بهشتم آنکه عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حصہ اہل بیت از خمس که به نص قرآنی ثابت است قوله تعالیٰ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمُ - الآية [ سورۃ الانفال: ۲۱] بایشاں نہ داد پس خلاف حکم قرآن نمود جواب آنکه ای طعن پیش مذهب امامیه درست نمی شود زیرا که نزد ایشاں ایں آیت برائے بیان مصرف خمس است نه برائے استحقاق پس اگر امام وقت را صواب دید چناں افتد که یک فرقه را خاص کند از یں چہار فرقه که در قرآن مجید مذکور اند روا باشد و همین است مذهب جمیع از امامیه چنانچہ ابو القاسم صاحب شرائع الا حکام کہ ملقب به محقق است نز دا مامیه و غیر او از علماء ایشاں بایں معنی تصریح کرده اند و برایں مذہب سندی نیز از ائمه روایت می کنند پس اگر یک دو سال عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بذوی القربی چیز سے از خمس نداده باشد بنابر استثناء ایشان از مال شمس یا بنا بر کثرت احتیاج اصناف دیگر نزد ایشان محل طعن نمی تواند شد و مدلول آیت نیز ہمیں است کہ ایں ہر چہار فرقہ یعنی ذوی القربی و یتیماں و مساکین و مسافران لیاقت آن دارند که شمس با اینها داده شود خواه به هر ایک از ینها برسد خواه به یک دو فرقه حضرت امیر نیز در امام خلافت خواہ حصہ ذوی القربی خود نگرفته که بقول عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقراء و مساکین بنی ہاشم را ازاں داد و آنچه باقی می ماند بدیگر فقراء و مساکین اہل اسلام تقسیم نمود پس چوں فعل عمر موافق فعل معصوم باشد چه قسم محل طعن تواند شد روی الطحاوى والدار قطني عن محمد ابن اسحاق انه قال سالت ابا جعفر محمد ابن علی ابن الحسين ان امیر المومنین علی ابن ابی طالب لما ولی امر الناس كيف صنع في سهم ذوى القربی فقال سلک به والله مسلک ابی بکر و عمر زاد الطحاوى فقلت فكيف انتم تقولون قال والله ما كان اهله يصدرون الا عن رأيه وفعل عمر در تقسیم خمس آن بود که اول بفقر اء ویتامی از اہلبیت می رسانید و باقی در بیت المال می داشت و در نصرت بیت المال خرج می کرد و لہذار وایات دادن اہلبیت نیز از عمر متواتر و مشهور است روی ابو داؤد عن عبد الرحمن ابن ابی لیلی عن علی ان ابا بكر و عمر قسم سهم ذوي القربى لهم اخرج ابو داؤد ايضا عن جبير بن مطعم ان عمر كان يعطى ذوى القربى من خمسهم و این حدیث صحیح است و تحقیق این امر آنچه از تخص روایات معلوم مشہور آنست که ابوبکر و عمر حصہ ذوی القربی از خمس می برآوردند و بفقراء و مساکین ایشان می دادند و دیگر مہمات ایشان را ازاں سر انجام می کردند نه آنکه بطریق توریث غنی وفقیر و محتاج و غیر محتاج ایشان را بدهند چنانچہ در حضور پیغمبر نیز ہمیں معمول بود و حالا ہم مذہب حنفیہ و جمع کثیر از امامیہ ہمیں است کما سبق نقله عن الشرائع قال فى الهداية واما الخمس فيقسم على ثلثة اسهم سهم لليتامى وسهم للمساكين و سهم لابناء السبيل يدخل فقراء ذوى القربى فيهم ويقدمون ولا يدفع الى اغنيائهم (1) واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم ذی قعد ه ۱۳۹۹ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف