کمیٹی بنا کر زکوۃ و فطرہ اور چرم قربانی سے ہنر سکھانے اور تنخواہ دینے کا شرعی حکم
کمیٹی بنام بیت المال قائم کر کے اس میں چرم قربانی زکوۃ وفطرہ وصول کرتے ہیں جس میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو مسائل شرعیہ سے بالکل ناواقف ہیں، اس کو وصول کر کے ایسی ٹیکنیک یا کوئی ہنر سکھانے کے لئے جیسے سلائی وغیرہ یا اور کوئی ہنر جس سے بیوہ، غریب، مفلس، نادار، بے روزگار، یتیم کام کریں گے اور اس کو اس کی آمدنی سے تنخواہ دی جائے گی۔ کیا ایسا کرنا شرع میں جائز ہے؟ اسلامی ادارے کا حق مارنا کہاں تک صحیح ہے؟ زکوۃ و فطرہ چرم قربانی کی رقم کن لوگوں میں خرچ کی جائے؟ اور کس طریقے سے خرچ کی جائے؟ مکمل جواب بحوالہ عنایت فرمائیں!
الجواب: المستفتی: محمد اشرف علی خان، گولمودی مسجد، جمشید پور، بهار بیت المال شرعاً اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں مسلمانوں کے مصالح و حوائج کے لئے سلطان اسلام رقم رکھتا ہے اور اس کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) چوپایوں اور عشر کی اور ان رقموں کا بیت المال جو عشر وصولنے والا اس کے سر سے گزرنے والا تاجروں سے لے۔ (۲) غنیمت اور معادن و دفینہ کے خمس کا بیت المال جس کا مصرف یتیم مسکین اور مسافر ہیں۔ (۳) خراج و جزیہ وغیرہ کا بیت المال اور اس رقم کا مصرف مجاہدین اسلام و حفاظت میں حدود ودر استہ و بناء وقلعہ ہے ، سرائے و مساجد وغیرہ رفاہ عام مسلمین ہے۔ (۴) گری پڑی چیزوں اور لاوارث ترکہ کا بیت المال کہ رقم محتاجوں کے نفقہ اور ان کی دوا علاج اور فقراء اموات کے کفن اور لاوارث بچہ کہ کی پرورش وغیرہ میں خرچ ہوگی۔ ہندیہ میں ہے : " حصل ما يوضع فى بيت المال اربع انواع الاول): زكوة السوائم والعشور وما اخذه العاشر من تجار المسلمين الذين يمرون عليه و محله ما ذكرنا من المصارف (والثاني): خمس الغنائم والمعادن والركاز ويصرف اليوم الى ثلثة اصناف: اليتامى والمساكين وابن السبيل (والثالث): الخراج والجزية وما صولح عليه الخ“ اسی میں ہے: ”و تصرف تلک الی عطايا المقاتلة وسد الثغور وبناء الحصول ثمة والى مراصد الطريق فى دار الاسلام الخ“ اسی میں ہے : الرابع اللقطات هكذا في محيط السرخسى وما اخذ من تركة الميت الذي مات ولم یترک وارثا او ترک زوجا و زوجة وهذا النوع يصرف الى نفقة المرضى وادويتهم وهم فقراء والى كفن الموتى الذين لا مال لهم والى اللقيط وعقل جنايته والى نفقة من هو عاجز عن الكسب وليس له من تجب عليه نفقته وما اشبه ذلک کذا فی شرح الطحطاوی‘ اور امام پر لازم ہے کہ ہر نوع مال کے لئے علیحدہ علیحدہ بیت المال مقرر کرے۔ ہندیہ وغیر ہا میں ہے: ( واللفظ للهندية) فعلى الامام ان يجعل بيت المال اربعة لكل نوع بيتا (۲) اور صحابہ کرام کے زمانے کے بیت المال کی تفصیل نہ دیکھی اور عبارت کتب سے اندازہ لگانا آسان ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کہہ سکتے ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) متقی و صاحب امانت و دیانت ہونالازم ہے، زکوۃ ، فطرہ ، عشر ، صدقات واجبہ کا مستحق فقیر مسلم ہے۔ کسی مدرسہ یا اسکول کو یہ رقم دینا جائز نہیں اور دینے سے زکوۃ وفطرہ ادا نہ ہوں گے۔ مدرسہ وغیرہ کو دینا ہو تو حیلہ شرعی کر لیں اور حیلہ شرعی یہ ہے کہ فقیر مسلم کو دے کر مالک بنادیں پھر اس کی خوشی سے مدرسہ وغیرہ کے لئے لے لیں۔ ہندیہ میں ہے: "ولا يجوز ان يبنى بالزكاة المسجد وكذا القناطر والسقايات و اصلاح الطرقات وكرى الانهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه ولا يجوز ان يكفن بهامیت و لا یقضی بهادین المیت کذافی التبيين" در مختار میں ہے: لا يصرف الى بناء نحو مسجد ولا الی کفن میت و قضاء دينه لا الى ثمن يعتق لعدم التمليك و هو الركن قدمنا ان الحيلة ان يتصدق بها على الفقير ثم يامره بفعل هذه الاشياء و هل له ان يخالف امره لم اره والظاهر نعم (1) اور چرم قربانی کی رقم بے حیلہ شرعی مسجد و مدرسہ وغیرہ کارخیر میں دے سکتے ہیں کہ اس کو صدقہ کرنا واجب نہیں البتہ چرم قربانی اپنے اوپر یا اپنے عیال کے خرچ کے لئے بیچی تو اسے فقیر مسلم کو دبین الازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور سوال اخیر کا جواب ماسبق سے ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۲۰ رصفر المظفر ۱۴۰۵ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دارالافتاء ۸۲ رسوداگران، بریلی شریف